اسلام آباد/کراچی(این این آئی) محکمہ موسمیات نے مون سون سیزن 2026 کے لیے ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں پر مشتمل موسمی آؤٹ لک جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت اور مون سون بارشوں کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ،
دریاو?ں میں پانی کے بہاؤ میں تیزی، مقامی سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) کے واقعات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بالائی خیبرپختونخوا میں مون سون کے دوران مجموعی طور پر معمول کے مطابق بارشوں کا امکان ہے، تاہم شمالی پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس سے برفانی تودوں اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا خدشہ ہے۔آؤٹ لک میں کہا گیا ہے کہ شدید مگر مختصر دورانیے کی بارشیں فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے (گلوف) جیسے خطرناک واقعات کا سبب بن سکتی ہیں، جس کے باعث بالخصوص پہاڑی اور دریائوں سے ملحقہ علاقوں میں رہنے والے افراد کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
محکمہ موسمیات نے دریائوں، ندی نالوں اور گلیشیائی وادیوں کے قریب رہنے والے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ موسم، دریائوں کی صورتحال اور ممکنہ سیلابی خطرات کی مسلسل نگرانی کریں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل رکھیں۔اعلامیے میں شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کی جانے والی تازہ موسمی اطلاعات اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات نے اپریل تا جون 2026 کے پری مون سون سیزن کی رپورٹ بھی جاری کی ہے، جس کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک بھر میں مجموعی بارشیں معمول سے 13 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق اس مدت میں ملک بھر میں اوسطاً 73 ملی میٹر بارش ہوئی۔اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں معمول سے 23 فیصد، خیبرپختونخوا میں 15 فیصد، آزاد کشمیر میں 10 فیصد اور بلوچستان میں 10 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ سندھ میں بارشیں تقریباً معمول کے مطابق رہیں۔ تاہم گلگت بلتستان میں پری مون سون بارشیں معمول سے 17 فیصد کم ریکارڈ کی گئیں۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کے دوران موسمی صورتحال میں اچانک تبدیلی آ سکتی ہے، لہٰذا متعلقہ ادارے اور شہری بروقت احتیاطی اقدامات اختیار کریں تاکہ ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔



















































