بدھ‬‮ ، 08 جولائی‬‮ 2026 

شارجہ سے کراچی آنے والا کارگو طیارہ خلیج میں لاپتہ، ریسکیو آپریشن شروع

datetime 8  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): شارجہ سے کراچی آنے والی ایک کارگو پرواز دورانِ سفر لاپتا ہوگئی، جس کے بعد پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔

پی اے اے کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی کارگو پرواز کا کراچی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ اس وقت منقطع ہوا جب طیارہ کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں خلیج کے علاقے میں پرواز کر رہا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ رات 9 بج کر 18 منٹ پر پائلٹ نے نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی، جس کے بعد کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے طیارے کو ضروری رہنمائی فراہم کی۔ تاہم صرف چند منٹ بعد، 9 بج کر 21 منٹ پر ریڈار پر طیارے کی بلندی غیر معمولی رفتار سے کم ہوتی دیکھی گئی، جبکہ اس نے اچانک اپنی سمت بھی تبدیل کر لی۔ اس کے بعد طیارے سے ریڈار اور ریڈیو رابطہ مکمل طور پر ختم ہوگیا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق دورانِ پرواز طیارہ تقریباً 15 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے آنے لگا۔ ایئر ٹریفک کنٹرول نے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر عملے کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہوا۔

پی اے اے نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا اور متعلقہ اداروں کے اشتراک سے سمندر میں وسیع پیمانے پر تلاش اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔

لاپتا طیارے میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے، جن میں:

پائلٹ محمد رضوان ادریس
شریک پائلٹ فیصل جتوئی
انجینئر محمد حامد
محمد عارف صدیقی
لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ بوئنگ 737-400 طیارہ (فلائٹ نمبر KTA-1732) شارجہ سے کراچی آرہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ طیارہ چند روز قبل فنی خرابی کے باعث مرمت کے لیے شارجہ بھیجا گیا تھا، جہاں تقریباً پانچ دن تک اس پر کام کیا گیا۔ مرمت مکمل ہونے کے بعد یہ فیری فلائٹ کے طور پر، یعنی بغیر کارگو کے، کراچی واپس روانہ ہوا تھا۔

اطلاعات کے مطابق طیارے کی مرمت ناردرن ٹیکنیکس نامی کمپنی نے انجام دی تھی۔

سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مختلف ادارے حصہ لے رہے ہیں۔ پاک بحریہ نے اپنے جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار اور پی این ایس حنین کو متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کر دیا ہے، جبکہ بحریہ کا اے ٹی آر طیارہ اور پاک فضائیہ کا ساب طیارہ بھی فضائی تلاش میں شریک ہیں۔

اس کے علاوہ میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے اورماڑہ کے قریب سمندری سرچ آپریشن شروع کر رکھا ہے، جہاں اس کا ڈیفینڈر طیارہ، فاسٹ رسپانس بوٹس اور دیگر بحری وسائل بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے تجارتی جہاز لاہور کو بھی امدادی کارروائیوں میں شامل کر لیا گیا ہے۔

ادھر سول ایوی ایشن کے کراچی ہینگر میں سرویلنس طیارے کی تیاری اور ری فیولنگ کا عمل بھی مکمل کیا جا رہا ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں لاپتا طیارے اور اس کے عملے کا سراغ لگانے کے لیے مسلسل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔



کالم



ووزی ناں (Vozinha)


وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…