ہفتہ‬‮ ، 04 جولائی‬‮ 2026 

چین جائیں

datetime 5  جولائی  2026
چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کو کھانا کھلانا یقینا مشکل کام ہے چناں چہ حکومت نے مختلف قسم کی فصلوں کے لیے مختلف علاقے مختص کر رکھے ہیں‘ گندم کے لیے10صوبوں کے 23ریجن طے ہیں‘ ملک کی 35فیصد گندم ہینان (Henan) اور انہوئی (Anhui) کے صوبوں میں پیدا ہوتی ہے جب کہ چیانگ سو (Jiangsu) اور شانزی (Shaanzi) میں 10 فیصد گندم اگائی جاتی ہے‘ اس سال جون میں اچانک انہوئی صوبے میں خوف ناک بارشوں کی پیش گوئی کر دی گئی‘ بارشیں تین دنوں میں متوقع تھیں‘ گندم کی فصل تیار تھی لیکن انہوئی کے کسان تین دن میں فصل نہیں سمیٹ سکتے تھے چناں چہ وہ بے بسی سے آسمان اور فصل کو دیکھنے لگے‘ کسانوں کی مجبوری کی یہ خبر میڈیا تک پہنچی اور یہ سن کر ہینان‘ شندونگ‘ چیانگ سو‘ سیچوان اور کنگ ہوئی صوبوں کے ہزاروں کسان اٹھے‘ اپنی اپنی مشینیں لیں اورانہوئی کی طرف نکل کھڑے ہوئے‘ ایک دن میں ساڑھے تین ہزار کسان اپنی مشینوں کے ساتھ وہاں پہنچے اور لوکل کسانوں کے ساتھ مل کرتین دن میں ساری فصلیں سمیٹ دیں جس کے بعد جب بارشیں شروع ہوئیں تو نیچے کھلے میدانوں اور خالی کھیتوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا‘ یہ ہے زندگی گزارنے کی چینی روایات یعنی اجتماعیت۔ چین میں حکومت کا عوام پر بے انتہا کنٹرول ہے اگر حکومت نے کہہ دیا تو پھر کوئی شخص حکم کی خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکتا مثلاً حکومت نے 1981ئمیں کزن میرج پر پابندی لگا دی‘ اس کی وجہ بیماریاں تھیں‘ سائنس ثابت کر چکی ہے کزن میرج سے ناقابل علاج بیماریاں پھیلتی ہیں چناں چہ چین میں کزن میرج بھی بین ہوگئی اور میڈیکل ٹیسٹ کے بغیر شادی پر پابندی بھی لگ گئی تاکہ بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچایا جا سکے‘ عوام نے اسے من و عن مان لیا اور خلاف ورزی کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا‘ چین میں واٹس ایپ‘ فیس بک اور یوٹیوب نہیں چلتے‘چینی لوگ اس کی بھی پابندی کرتے ہیں‘ یہ وی پی این سے یہ تمام ایپس ڈائون لوڈ کر سکتے ہیں لیکن یہ نہیں کرتے‘ قانون کی یہ خلاف ورزی صرف غیرملکی یا سیاح کرتے ہیں‘چین میں ٹک ٹاک سب سے زیادہ پاپولر ہے اور پورا ملک اس کا ایڈکٹ ہے‘ آپ چین کے کسی کونے میں چلے جائیں آپ کو لوگ زمین پر اکڑوں بیٹھ کر ٹک ٹاک دیکھتے اور قہقہے لگاتے دکھائی دیں گے
تاہم کام کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پابندی ہے‘ دفتروں اور فیکٹریوں میں لاکرز بنے ہوئے ہیں‘ ورکرز اپنے موبائل فونز اور پرس ان میں رکھ کر کام شروع کرتے ہیں اور یہ اس کے بعد لنچ ٹائم اور چھٹی کے وقت فون دیکھ سکتے ہیں‘ کام کے دوران مکمل توجہ صرف کام پر رہتی ہے‘ شاید یہی وجہ ہے چین دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے‘ مجھے کسی دکان‘ شوروم یا فیکٹری میں لوگ موبائل فون میں گھسے ہوئے دکھائی نہیں دیے‘ صرف سیلز کے لوگ فون استعمال کر سکتے ہیں لیکن یہ بھی انہیں کمپنی فراہم کرتی ہے‘ یہ ذاتی فون استعمال نہیں کر سکتے‘ سکولوں میں بچوں کے پاس فون نہیں ہوتا‘ مجھے ایک ٹیکسی ڈرائیور نے بڑی دل چسپ بات بتائی‘ اس کے بقول’’ مجھے بے انتہا نیند آتی تھی‘ میں دن کے وقت بھی اونگھتا رہتا تھا‘ میں ایک ڈاکٹر کے پاس گیا‘ وہ میرا مسئلہ سن کر ہنسا اور مجھ سے پوچھا ’’تمہارے پاس فون کون سا ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’میں فون استعمال نہیں کرتا‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور کہا ’’تمہارا مسئلہ یہی ہے‘ تم ابھی بازار سے سمارٹ فون لائو‘ اس میں ٹک ٹاک ڈائون لوڈ کرو اور پھر دیکھو تمہاری نیند کس طرح اڑتی ہے‘‘ ڈرائیور کے بقول ’’میں نے ڈاکٹر کی تجویز پر عمل کیا اور اگلے دن سے میری نیند غائب ہو گئی‘ میں اب بمشکل چار پانچ گھنٹے سو پاتا ہوں‘‘ وہ یقینا مذاق کر رہا تھا ورنہ چین میں موبائل فون کے بغیر زندگی ناممکن ہے‘ پورے ملک میں آن لائن پے منٹس ہوتی ہیں اور یہ موبائل فون کے بغیر ممکن نہیں‘ چینی سسٹم میں سب کو پوائنٹس بھی ملتے ہیں‘ یہ بینکوں کی کریڈٹ لائینز‘ فنانشل کریڈیبلٹی اور مالیاتی حالت کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں اور یہ بہت قیمتی ہوتے ہیں‘ چینی شہری جوں ہی کوئی چیز ادھار یا عاریتاً حاصل کرتے ہیں ان کے پوائنٹس ہولڈ ہو جاتے ہیں‘ یہ جب وہ چیز واپس کرتے ہیں تو صرف کرائے کی رقم کٹ کر باقی پوائنٹس اسے واپس مل جاتے ہیں‘ مثلاً چین میں مختلف جگہوں پر پاور بینکس سٹیشنز ہیں‘ یہ پیلے رنگ کے باکس ہوتے ہیں جن میں پاور بینکس فکس ہوتے ہیں‘ آپ اپنے موبائل فون سے اپنا ’’کیو آر کوڈ‘‘ سکین کرتے ہیں‘ یہ آپ کے سو دو سو پوائنٹس ہولڈ کر لیتا ہے اور آپ اس کے بعد پاور بینک لے لیتے ہیں‘ کمپنی فی گھنٹہ کے حساب سے سات یوآن چارج کرتی ہے‘ آپ اپنا فون چارج کریں اور راستے میں کسی بھی پاور بینک سٹیشن پر وہ پاور بینک واپس کر دیں‘ واپسی کا فارمولا بہت آسان ہے‘ آپ سٹیشن کے خالی خانے میں وہ پاور بینک فکس کر دیں‘ یہ جوں ہی فکس ہو گا کمپنی آپ کے پوائنٹس واپس کر دے گی اور کرائے کی رقم کاٹ لے گی لیکن اگر خدانخواستہ آپ پاور بینک واپس نہیں کرتے یا یہ گم ہو جاتا ہے تو آپ کے پوائنٹس بھی ضائع ہو جائیں گے اور آپ کی ریٹنگ بھی گر جائے گی اور یہ غلطی اگر دو چار مرتبہ ہو گئی تو آپ کا اکائونٹ بند ہو جائے گا اور اس کے بعد آپ کے لیے چین میں خریداری اور سفر دونوں مشکل ہو جائیں گے‘ میں نے اواتار مائونٹین پر ڈاکٹر عثمان کے کارڈ پر پاور بینک لیا‘ ڈاکٹر صاحب کی ایک آنکھ اس کے بعد پاور بینک پر فکس ہو گئی اور یہ دائیں بائیں کی بجائے صرف پاور بینک دیکھتے رہے ‘ ہم نے اسی طرح ایک وینڈنگ مشین سے لسی نکالی‘ مشین کھولنے کے لیے بھی موبائل فون استعمال کیا‘ مشین نے اندر موجود تمام اشیاء کے برابر پوائنٹس ہولڈ کر لیے‘ یہ 780 پوائنٹس تھے‘ ہم نے جب دو لسی لے لیں تو اس نے ان کے پیسے کاٹے اور باقی پوائنٹس ریلیز کر دیے لہٰذا یہ پوائنٹس بہت اہم ہوتے ہیں‘ آپ نے ذرا سی غلطی کی اور آپ کے تمام پوائنٹس ضائع ہو جائیں گے اور آپ سڑک پر آ جائیں گے۔ چین انفرا سٹرکچر اور تعمیراتی صنعت میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے‘ آپ ملک کے کسی بھی حصے میں چلے جائیں آپ کو وہاں سڑک بھی ملے گی‘ٹرین بھی‘ بس بھی اور فلائیٹس بھی‘ میں چانگ چاچے میں اترا‘ یہ چھوٹا سا ائیرپورٹ تھا لیکن اس پر تیس سے زیادہ کنوینئر بیلٹس تھیں اور ان پر سامان بھی تھا یعنی اس چھوٹے سے ائیرپورٹ پر بھی دس بیس فلائیٹس اکٹھی لینڈ کرتی ہیں‘ میری واپسی کے وقت بھی آٹھ دس فلائیٹس تھیں اور تمام لاجز کے سامنے لوگ بیٹھے تھے‘ آپ اس سے شنگھائی اور بیجنگ جیسے شہروں اور ان کے ائیرپورٹس کی مصروفیت کا اندازہ کر لیجیے‘ مجھے ائیرپورٹس پر تین مشاہدات ہوئے‘ ایک وہاں اے ٹی ایم جیسی اور جتنی مشینیں پڑی ہوئی تھیں مسافر جوں ہی ان کے سامنے کھڑے ہوتے تھے یہ اس کی تصویر کھینچتی تھیں اور چند سیکنڈز میں اس کا پورا پروفائل سکرین پر آ جاتا تھا‘ مسافر کا پاسپورٹ بھی کھل جاتا تھا اور وہ مشین اسے یہ بھی بتادیتی تھی آپ کی اگلی فلائیٹ کس گیٹ پر ہے اور آپ کا سیٹ نمبر کیا ہے‘ مشین اس کو یہ بھی بتا دیتی تھی اس کا گیٹ دائیں سائیڈ پر ہے یا بائیں سائیڈ پر اور اس کو وہاں پہنچنے کے لیے کتنے قدم اٹھانا پڑیں گے‘ مجھے دنیا میں کسی دوسری جگہ یہ سہولت نظر نہیں آئی‘ دو ہم جب بورڈنگ پاس لیتے تھے اور ہمارا سامان چیک ان کے لیے بیلٹ پر رکھا جاتا تھا تو کائونٹر کے پیچھے سکینر ہوتا تھا‘ مسافروں کے تمام بیگ سکینر سے سکین ہو کر آگے جاتے تھے اگر اس میں کوئی مشکوک چیز ہوتی تھی تو بورڈنگ پاس رک جاتا تھا اور مسافر کو پہلے سامان کی کلیئرنس کے لیے کسٹمز کے پاس جانا پڑتا تھا‘ مسافر کا بیگ اس کے پہنچنے سے قبل وہاں پہنچ جاتا تھا‘ کسٹمز بیگ کو کلیئر کرتا تھا تو مسافر کوبورڈنگ پاس مل جاتا تھا ورنہ وہ بیگ سمیت حوالات میں یا پھر ائیرپورٹ سے باہر ہوتا تھا‘ یہ سارا پراسیس چند قدموں کے فاصلے پر ہوتا ہے اور مسافر کو دھکے نہیں کھانے پڑتے‘ تین اگر مسافر مشکوک ہے یا لینڈنگ کے بعد اس نے مزید انٹرویو کے لیے کسی اتھارٹی کے سامنے پیش ہونا ہے تو جہاز کے عملے تک اطلاع چلی جائے گی اور وہ لینڈنگ کے بعد اس مسافر کو لے کر جہاز کے دروازے پر آ جائے گا اور اسے اتھارٹی کے حوالے کرے گا‘ ہماری واپسی کے دوران ہمارے دو ساتھیوں کے پاس ڈرونز تھے‘ یہ کھلونا ڈرون تھے‘ ان کی وجہ سے ان کا سامان رکا‘ یہ کسٹمز کے سامنے پیش ہوئے‘ آفیسر نے ان کا ڈرون نکالا‘ انہیں پولیس کے پاس لے کر گئے‘ پولیس نے ڈرونز کا جائزہ لیا اور انہیں باقاعدہ سر ٹیفکیٹ جاری کیا‘ یہ اس سر ٹیفکیٹ کے بغیر ڈرونز کو کسی فلائیٹ میں نہیں لے جا سکتے تھے‘ ہم جب شنگھائی میں اترے تو ائیرلائین کا عملہ ہمارے دونوں ساتھیوں کو لے کر گیٹ پر پہنچا اور انہیں پولیس کے حوالے کیا‘ پولیس ڈرونز اور ساتھیوں دونوں کو امیگریشن گیٹ تک لے کر گئی‘ یہ پولیس کے بغیر امیگریشن کراس نہیں کر سکتے تھے‘ یہ ہے سسٹم‘ ائیرپورٹس پر تلاشی کا سسٹم بھی بہت تگڑا تھا‘ سٹاف بہت متحرک اور چست تھا اگر کسی کو سب کی تلاشی کا حکم ہے تو پھر وہ سب کے جسم پر ہاتھ پھیر کر پوری تلاشی لیں گے‘ کسی کو استثنیٰ نہیں ہو گا۔ چینی سپیڈ بھی حیران کن ہے‘ یہ دو تین برس میں پورا پوراشہر آباد کر دیتے ہیں‘ منگولیا کا ایک حصہ چین میں ہے‘ یہ ’’انر منگولیا‘‘ کہلاتا ہے‘ اس میں دنیا کا مشکل ترین صحرا گوبی ہے‘ چین نے اسے سرسبز بنا دیا‘ اس کے لیے بڑی دل چسپ تکنیک استعمال کی گئی‘ حکومت نے صحرا میں سولر پینلز لگا دیے‘ پینلزکو ہر ہفتے صاف کرنا پڑتا ہے‘ اس کے لیے پانی کے پائپ بچھائے گئے‘ صفائی کا پانی پینلز کے نیچے جہاں گرتا تھا حکومت نے وہاں پودے اور گھاس لگا دی‘ اس گھاس کے لیے وہاں بکریاں اور بھیڑیں رکھ دی گئیں اور یوں ایک فیصلے سے صحرائے گوبی سے بجلی ملنے لگی‘ صحرابھی سبز ہو گیا اور لائف سٹاک کی پوری انڈسٹری بھی ڈویلپ ہو گئی‘ چین میں ایسی درجنوں ہائی رائز بلڈنگز ہیں جن کی چودھویں یا پندرھویں منزل کے اندر سے ٹرین یا ہائی وے گزرتی ہے اور عمارت میں رہنے والوں کو احساس تک نہیں ہوتا‘ ایسے شہر بھی ہیں جو پورے کے پورے اپارٹمنٹس کمپلیکسز میں بنے ہوئے ہیں یعنی شہر کی تمام سہولتیں ان کمپلیکسز میں ہیں اور کسی شہری کو کسی سہولت کے لیے باہر نہیں جانا پڑتا حتیٰ کہ پچاسویں یا سوویں منزل پر پارکس‘ جنگل اور ندیاں اور جھلیں ہیں اور لوگ وہاں مچھلیاں بھی پکڑتے ہیں‘یہ لوگ کوئی چیز ضائع نہیں کرتے‘ پھلوں اور ڈرائی فروٹس کے چھلکوں سے بھی پراڈکٹس بناتے ہیں‘ جانوروں کی لید بھی سکھا کر اس کا ایندھن بناتے ہیں‘ شہروں کا کچرا جلا کر بجلی بناتے ہیں‘ اناج کے بھوسے سے بھی درجنوں مصنوعات بنائی جاتی ہیں‘ ہم چاولوں کی ’’بھک‘‘ جلا دیتے ہیں جب کہ یہ اس سے لکڑی اور اس لکڑی سے فرنیچر بناتے ہیں‘ یہ لوگ جانوروں کی انتڑیاں‘ سینگ اور کھر بھی پیک کر کے بیچ دیتے ہیں اور انسانی بال اور ناخن بھی جمع کر کے ان کی پراڈکٹس بنا کر بیچتے ہیں چناں چہ آپ کو چین میں کوئی چیز ضائع ہوتی نظر نہیں آتی‘ واش رومز کا پانی بھی دس دس بار استعمال ہوتا ہے اور آخر میں اس سے گاڑیاں دھوئی جاتی ہیں یا پودوں کو سیراب کیا جاتا ہے‘ میں نے برسوں پہلے کسی کتاب میں پڑھا تھا مغرب (یورپ) کا وقت ختم ہو چکا ہے‘ اگلی صدی مشرق کی ہے‘ مجھے اس وقت یقین نہیں آیاتھا لیکن آج چین نے ثابت کر دیا یہ صدی مشرق کی ہو یا نہ ہو لیکن یہ چین کی ضرور ہے‘ یہ حقیقتاًباقی دنیا سے بہت آگے ہے لہٰذا میرا مشورہ ہے آپ اگر واقعی علم حاصل کرنا چاہتے ہیں یا ترقی اور خوش حالی کی تکنیکس سیکھنا چاہتے ہیں تو زندگی میں کم از کم ایک بار چین ضرور جائیں آپ کی آنکھیں اور دماغ دونوں کھل جائیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چین جائیں


چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…