اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سینئر صحافی منصور علی خان نے لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا کیس سے متعلق اپنے وی لاگ میں مختلف دعوے اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی ابتدائی معلومات شیئر کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب یہ مقدمہ منظر عام پر آیا تو پولیس نے مبینہ ملزم رضا ڈار کے حوالے سے ڈار خاندان سے رابطہ کیا۔ پولیس نے دریافت کیا کہ آیا رضا ڈار ان کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جس پر انہیں بتایا گیا کہ وہ اسحاق ڈار کے نواسے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس وقت رضا ڈار کے زیر استعمال موبائل فون بند تھے، جس کے باعث ان تک براہِ راست رسائی ممکن نہیں ہو رہی تھی۔
منصور علی خان کے مطابق بعد ازاں پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج، جیو ٹیگنگ اور دیگر تکنیکی ذرائع سے ملزم کی تلاش شروع کی۔ اسی دوران ڈار خاندان کے ایک فرد نے رضا ڈار سے رابطہ کیا اور ان سے اپنی موجودہ لوکیشن شیئر کرنے کو کہا۔ مبینہ طور پر یہی لوکیشن بعد میں پولیس کو فراہم کی گئی، جس کے بعد لاہور کے علاقے ڈیفنس میں کارروائی کرتے ہوئے رضا ڈار کو گرفتار کر لیا گیا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض اطلاعات کے مطابق متاثرہ خواتین اس مقام پر موجود نہیں تھیں جہاں سے رضا ڈار کو گرفتار کیا گیا، بلکہ انہیں لاہور ایئرپورٹ کے قریب سے بازیاب کرایا گیا۔
وی لاگ میں یہ بھی کہا گیا کہ تفتیش کے دوران خواتین کے موبائل فونز کا جائزہ لیا گیا، جہاں سے تقریباً 15 لاکھ امریکی ڈالر کی مالی لین دین سے متعلق ریکارڈ سامنے آیا۔ منصور علی خان کے مطابق ابتدائی شواہد سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رضا ڈار کے علاوہ دیگر افراد بھی ان خواتین کے ساتھ کاروباری معاملات اور سرمایہ کاری میں شریک تھے۔
انہوں نے بتایا کہ دورانِ تفتیش رضا ڈار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ خود اس معاملے میں متاثرہ فریق ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان پر جنسی زیادتی کا کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا، جبکہ ایسے الزامات دیگر ملزمان کے خلاف لگائے گئے ہیں۔
منصور علی خان کے مطابق رضا ڈار کا مؤقف ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے مختلف افراد نے مشترکہ طور پر رقم جمع کی تھی، تاہم انہیں وعدے کے مطابق منافع نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض سرمایہ کار صرف اپنی اصل رقم واپس لینے کا مطالبہ کر رہے تھے کیونکہ انہیں منافع میں حصہ نہیں دیا جا رہا تھا۔
واضح رہے کہ یہ تمام تفصیلات سینئر صحافی منصور علی خان کے وی لاگ میں بیان کیے گئے دعووں اور ابتدائی معلومات پر مبنی ہیں، جبکہ کیس کی تحقیقات تاحال جاری ہیں اور حتمی حقائق کا تعین عدالت اور تحقیقاتی اداروں کی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔



















































