اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) معروف ٹک ٹاکر علی حیدر آبادی نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اپنی طلاق کی ویڈیو اور ذاتی زندگی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر پہلی بار تفصیلی ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر مزید کوئی وضاحت نہیں دیں گے اور یہ ان کا پہلا اور آخری بیان ہے۔
علی حیدر نے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر اپنی سابقہ اہلیہ زینب پر مبینہ تشدد کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے نہ تو ان کی انگلی توڑی اور نہ ہی ہاتھ کو کوئی نقصان پہنچایا، جبکہ ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات حقیقت کے منافی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ابتدا سے اس خاندانی تنازع کو نجی رکھنا چاہتے تھے، تاہم مسلسل لگائے جانے والے الزامات کے باعث انہیں عوام کے سامنے اپنی وضاحت پیش کرنا پڑی۔علی حیدر آبادی نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی طلاق کی ویڈیو انہوں نے اپنی حفاظت اور ممکنہ بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے ریکارڈ کی تھی۔
ان کے مطابق ویڈیو میں پیش آنے والے واقعے کے دوران انہیں کسی قسم کا تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنے مؤقف کی تائید میں تمام متعلقہ اداروں کے سامنے شواہد پیش کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہر قانونی فورم پر اپنے دعوؤں کو ثابت کر سکتے ہیں۔



















































