اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان میں راستہ بھٹکنے والے کراچی کے تاجر کا ساتھ کب کیا ہوا؟ تفصیل سامنے آگئی

datetime 30  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے ملک بھر میں غم و افسوس کی لہر دوڑا دی۔

غیر محفوظ راستے پر پہنچنے کے بعد نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں خاندان کے سربراہ علی مرتضیٰ جان کی بازی ہار گئے جبکہ ان کی اہلیہ شدید زخمی ہو گئیں۔ خوش قسمتی سے دونوں کمسن بیٹیاں اس حملے میں محفوظ رہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان وزارتِ داخلہ کے ترجمان بابر یوسفزئی نے بتایا کہ متاثرہ خاندان کو واقعے کے فوراً بعد امدادی کارروائی کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد زخمی خاتون اور بچوں کو علاج کے لیے کراچی روانہ کر دیا گیا۔ان کے مطابق علی مرتضیٰ اپنی اہلیہ اور دو بیٹیوں کے ہمراہ دو روز کوئٹہ میں قیام کے بعد رات تقریباً ایک بجے کراچی واپسی کے لیے روانہ ہوئے، تاہم گوگل میپس کی رہنمائی پر وہ قومی شاہراہ کے بجائے ایک دیہی سڑک پر چلے گئے جو مستونگ کے مضافاتی علاقے دشت سے گزرتی ہے۔ترجمان کے مطابق رات تقریباً تین بجے جب خاندان اس علاقے سے گزر رہا تھا تو پہاڑی علاقے سے آنے والے دہشت گردوں نے گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے علی مرتضیٰ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ان کی اہلیہ زخمی ہوئیں۔بابر یوسفزئی نے اس حملے کا ذمہ دار بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے عناصر کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے ایک نہتے خاندان کو نشانہ بنایا، جو ان کی بزدلانہ کارروائی اور انسانیت دشمن سوچ کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ زخمی خاتون نے واقعے کے تقریباً 25 منٹ بعد پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکار آدھے گھنٹے کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے زخمی خاتون اور دونوں بچیوں کو بحفاظت اسپتال منتقل کیا جبکہ جاں بحق تاجر کی میت بھی ضروری کارروائی کے لیے اسپتال پہنچا دی گئی۔ترجمان وزارتِ داخلہ نے اس موقع پر اعتراف کیا کہ دور افتادہ علاقوں میں حفاظتی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ایسے مقامات پر پولیس چوکیوں کے قیام اور خطرناک راستوں کی نشاندہی کے لیے واضح سائن بورڈز نصب کیے جانے چاہییں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے المناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…