اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں درآمدی موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد مہنگے اور جدید اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے درآمد شدہ موبائل فونز کی قیمتوں میں تقریباً 10 ہزار سے 14 ہزار روپے تک کمی آ سکتی ہے، جس سے صارفین کو براہِ راست مالی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے دوران چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو راشد محمود لنگڑیال نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ درآمدی موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 20 فیصد کمی کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
ان کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں مہنگے اور پریمیئم کیٹیگری کے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں فی فون تقریباً 14 ہزار روپے تک کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے صارفین کو خاطر خواہ ریلیف ملے گا۔
فنانس بل 2026 کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ موجودہ موبائل ٹیکس نظام حکومتی آمدن اور مارکیٹ کے توازن کے لحاظ سے مؤثر ثابت ہو رہا ہے، اس لیے ٹیکس ڈھانچے میں مزید بڑی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مہنگے درآمدی فونز پر ڈیوٹی میں بڑے پیمانے پر کمی کا زیادہ فائدہ خوشحال طبقے کو پہنچے گا، جبکہ اس سے قومی خزانے کو نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں مزید رعایت دینے پر غور کیا گیا تو اسے 31 سے 200 ڈالر قیمت والے موبائل فونز تک محدود رکھا جا سکتا ہے، تاکہ کم آمدنی والے افراد اور پہلی مرتبہ اسمارٹ فون خریدنے والے صارفین زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔



















































