اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)وفاقی حکومت نے یکم جولائی سے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ایڈوانس ٹیکس کی شرحوں میں ردوبدل کرتے ہوئے نئی شرحوں کی منظوری دے دی ہے۔
فنانس بل کی منظوری کے بعد نئے مالی سال کے آغاز سے ملک بھر میں پراپرٹی کے لین دین پر یہی نئی ٹیکس شرحیں نافذ العمل ہوں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے غیر منقولہ جائیداد کے کاروبار سے متعلق ٹیکس نظام میں تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت یکم جولائی سے جائیداد فروخت کرنے والے افراد پر فروختی رقم کا 2.75 فیصد ایڈوانس ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
اسی طرح پراپرٹی خریدنے والے افراد کو بھی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ نئی شرح کے مطابق خریدار سے جائیداد کی مارکیٹ ویلیو کے 1.25 فیصد کے برابر ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائے گا، جس کے باعث رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں لین دین کی لاگت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
فنانس بل میں صرف پراپرٹی سیکٹر ہی نہیں بلکہ کارپوریٹ اداروں اور بینکاری شعبے کے لیے بھی نئی ٹیکس پالیسی متعارف کرائی گئی ہے۔ نئے مالی سال سے بینکنگ کمپنیوں اور کھاد کے شعبے سے وابستہ اداروں کی 15 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 10 فیصد اضافی ٹیکس لاگو ہوگا۔
اس کے علاوہ دیگر کارپوریٹ کمپنیوں کے لیے بھی نئی شرح مقرر کی گئی ہے، جس کے تحت 50 کروڑ روپے سے زیادہ آمدن رکھنے والی کمپنیوں پر 8 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے حکومتی محصولات میں اضافہ متوقع ہے، تاہم پراپرٹی اور کاروباری شعبوں پر اس کے اثرات کا جائزہ آئندہ مہینوں میں سامنے آئے گا۔



















































