واشنگٹن (این این آئی)امریکا نے ایران کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے نکات جاری کر دیے، اس مفاہمتی یادداشت کا ٹائٹل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت رکھا گیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ورسیلز فرانس میں صدر میکرون کے ساتھ عشائیے کے موقع پر ایم او یو پر دستخط کیے اور صحافیوں کو بتایا کہ ایران امریکا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ۔ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی کہ مفاہمتی یادداشت کے متن پر ایران اور امریکا کے صدور نے الیکٹرانک دستخط کیے ہیں۔ امریکا کے ایک سینئر عہدیدار نے ایران کے ساتھ مجوزہ 14 نکاتی جنگ بندی یادداشتِ مفاہمت کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔مفاہمتی یادداشت کے پہلے نکتے کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل فوجی کارروائیاں بند کریں گے، فریقین ایک دوسرے کے خلاف دھمکی دینے یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے، لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔امریکی موقف ہے کہ معاہدے کے تحت فوری اور مستقل جنگ بندی، لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا خاتمہ اور ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔
دستاویز میں 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کی شق شامل ہے جبکہ امریکا ایران پر عائد بحری پابندیاں ختم کرے گا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال کی جائے گی۔معاہدے کے مطابق امریکا ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالرز کے منصوبے کی حمایت کرے گا جبکہ ایرانی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کے لیے فوری رعایتیں بھی دی جائیں گی۔
دستاویز میں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے جبکہ افزودہ جوہری مواد اور دیگر جوہری معاملات پر آئندہ مذاکرات میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔امریکا نے ایران کے منجمد اثاثے قابلِ استعمال بنانے، نئی پابندیاں نہ لگانے اور موجودہ صورتِ حال برقرار رکھنے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔یادداشتِ مفاہمت میں تمام پابندیوں کے خاتمے، عمل درآمد کی نگرانی کے لیے مشترکہ نظام کے قیام اور حتمی معاہدے کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی لازمی قرارداد کے ذریعے کرنے کی شق بھی شامل ہے۔ایرانی حکام نے تاحال اس دستاویز یا اس کے متن کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔



















































