اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات استعمال کرنے والے افراد کے لیے ایک اہم سہولت متعارف کرا دی گئی ہے،
جس کے تحت موبائل والٹ صارفین اب اپنے موبائل فون کے ذریعے براہِ راست حکومتی ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد عام شہریوں کو بھی محفوظ اور سرکاری ضمانت یافتہ سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
اس نئی سہولت کا آغاز جاز کیش اور موبی لنک بینک نے وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اہل صارفین جاز کیش ایپ کے ذریعے کم از کم 5 ہزار روپے سے حکومتی ٹریژری بلز خریدنے کے قابل ہوں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مالی شمولیت کے فروغ، بچت کے رجحان میں اضافے اور سرمایہ کاری کے مواقع کو عام شہریوں تک پہنچانے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اس کے ذریعے قومی بچتوں کو معیشت میں مؤثر انداز سے استعمال کرنے اور مالیاتی منڈیوں کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔
240 ملین سے زائد آبادی رکھنے والے پاکستان میں ابھی تک منظم سرمایہ کاری کے ذرائع میں عوامی شرکت محدود رہی ہے، اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے یہ ڈیجیٹل سرمایہ کاری کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت مالیاتی منڈیوں کو مضبوط بنانے، بچتوں کو متحرک کرنے اور شہریوں کی رسمی معیشت میں شمولیت بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی محفوظ اور ریگولیٹڈ مالیاتی مصنوعات تک رسائی حاصل کریں۔
اعلامیے کے مطابق صارفین جاز کیش ایپ کے بینکنگ اور فنانس سیکشن میں دستیاب معلومات کا جائزہ لینے کے بعد مکمل ڈیجیٹل طریقے سے سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ ایپ میں متوقع منافع، شرحِ منافع (ییلڈ)، میچورٹی ویلیو اور ٹیکس سے متعلق تمام تفصیلات بھی فراہم کی جائیں گی۔
ابتدائی مرحلے میں سرمایہ کاروں کو تین ماہ مدت کے ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کی سہولت دی جائے گی، جبکہ مستقبل میں طویل المدتی حکومتی سرمایہ کاری کے آپشنز بھی شامل کیے جائیں گے۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق مئی 2026 تک پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ سرمایہ کاروں کی تعداد 5 لاکھ 63 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ مختلف پبلک مارکیٹس میں مجموعی سرمایہ کاروں کی تعداد تقریباً 14 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں سرمایہ کاری کے زیادہ تر مواقع شہری اور نسبتاً خوشحال طبقے تک محدود تھے، جس کے باعث لاکھوں چھوٹے بچت کنندگان اور نئے سرمایہ کار ان سہولتوں سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے تھے۔ نئی ڈیجیٹل سہولت اس خلا کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔



















































