جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

آسٹریلوی وزیرِاعظم کا پاکستان سے سی سی ڈی کی فائرنگ سے 9 سالہ ہانیہ کی شہادت کی تحقیقات کا مطالبہ

datetime 15  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے چکوال میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں آسٹریلوی شہریت رکھنے والی 9 سالہ بچی ہانیہ احمد جان کی بازی ہار گئی تھی۔ انہوں نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل، غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کینبرا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتھونی البانیز نے کہا کہ ہانیہ احمد کی ہلاکت ایک انتہائی دردناک سانحہ ہے اور اس معاملے کی ہر پہلو سے باریک بینی کے ساتھ چھان بین ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات ایسی ہوں جن پر نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ عالمی برادری بھی اعتماد کر سکے۔

آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ واقعے کے تمام حقائق واضح ہونا ضروری ہیں تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور دنیا کو معلوم ہو کہ اصل میں کیا پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا پاکستان سے اس معاملے میں مکمل شفافیت اور سنجیدہ طرزِ عمل کی توقع رکھتا ہے۔

دوسری جانب آسٹریلوی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں موجود ہانیہ احمد کے اہلِ خانہ کو ہر ممکن قونصلر معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ اس مشکل وقت میں ضروری مدد حاصل کر سکیں۔

ہانیہ احمد کی موت کی خبر آسٹریلیا پہنچنے کے بعد وہاں کی پاکستانی اور تعلیمی برادری بھی شدید صدمے میں مبتلا ہے۔ پرتھ میں واقع آسٹریلین اسلامک کالج، جہاں ہانیہ زیرِ تعلیم تھی، کے پرنسپل عبداللہ خان نے کہا کہ یہ سانحہ پوری اسکول کمیونٹی کے لیے ناقابلِ یقین دکھ کا باعث بنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہانیہ ایک خوش اخلاق، دوستانہ مزاج اور سب کی پسندیدہ طالبہ تھی۔ اس کی اچانک موت نے اساتذہ، ساتھی طلبہ اور والدین کو گہرے غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسکول انتظامیہ نے متاثرہ طلبہ اور عملے کی ذہنی و جذباتی مدد کے لیے خصوصی کونسلنگ سیشنز کا بھی انتظام کیا ہے، جبکہ ہانیہ کی جماعت کے بچے اب بھی اس المناک واقعے کے اثرات سے باہر نہیں آ سکے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…