اسلام آباد (نیوز ڈیسک)آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے چکوال میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں آسٹریلوی شہریت رکھنے والی 9 سالہ بچی ہانیہ احمد جان کی بازی ہار گئی تھی۔ انہوں نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل، غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کینبرا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتھونی البانیز نے کہا کہ ہانیہ احمد کی ہلاکت ایک انتہائی دردناک سانحہ ہے اور اس معاملے کی ہر پہلو سے باریک بینی کے ساتھ چھان بین ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات ایسی ہوں جن پر نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ عالمی برادری بھی اعتماد کر سکے۔
آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ واقعے کے تمام حقائق واضح ہونا ضروری ہیں تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور دنیا کو معلوم ہو کہ اصل میں کیا پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا پاکستان سے اس معاملے میں مکمل شفافیت اور سنجیدہ طرزِ عمل کی توقع رکھتا ہے۔
دوسری جانب آسٹریلوی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں موجود ہانیہ احمد کے اہلِ خانہ کو ہر ممکن قونصلر معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ اس مشکل وقت میں ضروری مدد حاصل کر سکیں۔
ہانیہ احمد کی موت کی خبر آسٹریلیا پہنچنے کے بعد وہاں کی پاکستانی اور تعلیمی برادری بھی شدید صدمے میں مبتلا ہے۔ پرتھ میں واقع آسٹریلین اسلامک کالج، جہاں ہانیہ زیرِ تعلیم تھی، کے پرنسپل عبداللہ خان نے کہا کہ یہ سانحہ پوری اسکول کمیونٹی کے لیے ناقابلِ یقین دکھ کا باعث بنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہانیہ ایک خوش اخلاق، دوستانہ مزاج اور سب کی پسندیدہ طالبہ تھی۔ اس کی اچانک موت نے اساتذہ، ساتھی طلبہ اور والدین کو گہرے غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسکول انتظامیہ نے متاثرہ طلبہ اور عملے کی ذہنی و جذباتی مدد کے لیے خصوصی کونسلنگ سیشنز کا بھی انتظام کیا ہے، جبکہ ہانیہ کی جماعت کے بچے اب بھی اس المناک واقعے کے اثرات سے باہر نہیں آ سکے۔



















































