اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان میں مسلسل بڑھتی مہنگائی اور تعمیراتی اخراجات نے عام شہری کے لیے اپنا گھر تعمیر کرنا انتہائی مشکل بنا دیا تھا،
تاہم آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل نئی تجاویز سے اس شعبے کو کچھ ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تعمیراتی سامان پر عائد سیلز ٹیکس میں کمی کی تجویز دی ہے، جس کا مقصد گھروں کی تعمیر کی لاگت کو کم کرنا اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ہول سیل سطح پر فروخت ہونے والے بلڈنگ میٹریل پر سیلز ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح ریٹیل سطح پر دستیاب تعمیراتی سامان پر بھی سیلز ٹیکس میں اتنی ہی کمی تجویز کی گئی ہے۔اگر یہ اقدامات یکم جولائی 2026 سے نافذ ہو جاتے ہیں تو تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے، جس سے گھروں کی تعمیر پر آنے والے اخراجات کم ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں کمی کے باعث تعمیراتی شعبے میں سرگرمیاں بڑھنے کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی اپنا گھر تعمیر کرنے میں کچھ سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔



















































