اسلام آباد (این این آئی)حکومت نے درآمد شدہ کاروں اور بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے اور 3 ہزار سی سی سے زائد انجن کی گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھانے کا اعلان کردیا۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ معاشی بوجھ کی تقسیم کیلئے درآمد کی جانیوالی کاروں اور 2ہزار سے 3 ہزار سی سی تک کی ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 3ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی بڑھا ئی جارہی ہے ،ٹیکس کا اطلاق دو کروڑ سے مہنگی لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر بھی ہوگا ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آٹو سیکٹر ہماری معیشت کے اہم شعبوں میں شمار ہوتا ہے، اس شعبے کی ترقی کیلئے گزشتہ ایک دہائی میں ترقیاتی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں جن سے اس صنعت کو فروغ ملا اور ملک میں او ای ایمز/ اسمبلرزکی تعداد بڑھ کر 118ہو گئی ہے ، ان میں ٹریکٹر ، موٹر سائیکل، مسافر گاڑیوں اور کمرشل گاڑیوں کے مینوفیکچرز شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نئے مینوفیکچرنگ پلانٹس اور جدید ٹیکنالوجیز میں نمایاں سرمایہ کاری ہوئی ہے جس سے اس شعبے میں مسابقت بڑھی ہے اور شعبے میں جدت آئی ہے، اس وقت ایک نئی آٹوسیکٹر پالیسی وزیر اعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیر غور ہے جس کی تفصیلات وزیر اعظم ا وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک موٹر سائیکلز ، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام اگلے سال بھی برقرار رہے گا، اس سلسلے میں درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر بھی ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز ہے، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ ان سہولیات سے انتہائی مہنگی الیکٹرک گاڑیاں فائدہ نہ اٹھا سکیں۔



















































