اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 18 ہزار 771ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا ہے ،8054ارب روپے سود کی ادائیگی کیلئے رکھے گئے ہیں
جبکہ حکومتی اخراجات کیلئے 17495ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،حکومت نے مالی 2026-27کیلئے جی ڈی پی کی شرح میں چار فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا ہے ،زراعی شعبے میں 3.6فیصد ، صنعتی شعبے میں 4.5فیصد اور خدمات کے شعبے میں 4.2فیصد اضافہ متوقع ہے ،افراط زرمیں 8.2فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ،بجٹ کا خسارہ جی ڈی پی کے 3.6فیصد کے برابر متوقع ہے ،مجموعی ترقیاتی بجٹ کیلئے 3675 ارب روپے مختص کرنے اوردفاعی بجٹ میں 17.6 فیصد اضافے کی تجویز ہے ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 2,680 ارب روپے ،بجلی کے شعبے کیلئے116.2 ارب روپے ،کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے 1.851 ارب روپے مختص کر نے کی تجویز ہے جبکہ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اور نگزیب نے تنخواہوں، پنشن میں سات فیصد اضافہ کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز ہے ،حکومت کا 6 شعبوں کیلئے سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم ،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی،بیرون ملک سے آن لائن خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں کمی ،خواتین کے سینیٹری پیڈز پر عائد ٹیکس ختم ،آبادی کنٹرول کرنے کیلئے مائع حمل اشیا پر ٹیکس ختم،گاڑیوں کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائدکرنے ،بزنس کلاس سفر پر ٹیکس ختم،غیر ملکی اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم،کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں کمی،کرپٹو کرنسی کیلئے وِدہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے ۔
جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا جس میں اسپیکر قومی اسمبلی نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو بجٹ تقریر کا کہا جس کے بعد وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر شروع کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ بنیان مرصوص میں کامیابی ایک روشن باب ہے۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ سال بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا، آج پوری دنیا پاکستان کی دفاعی طاقت کو مانتی ہے،بہت سارے ممالک ہمارے فائٹر جیٹس اپنی افواج میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان ایسے ملک کی حیثیت حاصل کرچکا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے، ہماری مسلح افواج نے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ وہ چند گھنٹوں میں امن کی بات پر مجبور ہوا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی ساکھ بھارتی جارحیت کے جواب کے بعد عالمی سطح پر بڑھی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں،ہمارے پاس مقدس اور بھاری ذمہ داری ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ بھائی چارے کا رشتہ دفاعی معاہدے سے مضبوط ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے، پاکستان نے خطے میں امن استحکام، کشیدگی میں کمی کیلئے فعال، ذمہ دارانہ سفارتی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا،ہر گھر کے بجٹ پر نیا اور غیر متوقع دبائو آیا،اگر حکومت اس جھٹکے کا پورا بوجھ عوام پر منتقل کر دیتی تو یہ قیمتیں اس سے کہیں زیادہ ہوتیں۔ اسی لیے وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر حکومت نے ایک سو اٹھائیس (128) ارب روپے کی عمومی سبسڈی کے ذریعے عوام کو براہ راست ریلیف دیا،پھر جلد ہی صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ایک مبنی برہدف سبسڈی کا نظام متعارف کرایا جس کے ذریعے ضرورت مند افراد کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دیا گیا اور ابھی بھی دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط مستحکم معیشت کے ساتھ امریکہ ایران جنگ کے بحران میں داخل ہوا،اس بحران میں جہاں خطے اور دنیا کے دیگر کئی ممالک میں ایندھن کی قلت، پیٹرول پمپس پر لمبی قطاریں، مہنگائی اور ایکسچینج ریٹ میں گراوٹ دیکھی گئی اور ہم سے بہتر وسائل کے حامل بعض ملکوں کو عالمی مالیاتی اداروں کے پاس بھی جانا پڑا، وہاں پاکستان میں حکومت کے بروقت اور مدبرانہ فیصلوں اور مضبوط معاشی بفرز کی وجہ سے ایندھن کی کوئی قلت اور راشنگ نہ ہوئی، نہ پٹرول پمپس پر قطاریں لگیں، نہ کوئی امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا اور نہ ہی ایکسچینج ریٹ متاثر ہوا بلکہ اس بحران کے دوران فچ ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی ریٹنگ کو مستحکم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے عوام کو پیش آنے والی مشکلات کا ادراک ہے، اس کے ساتھ ہی حکومت بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کر رہی ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے اس سے قبل گزشتہ دو سال کے معاشی سفر کا مختصر احاطہ ضروری ہے، ہم نے یہ سفر ایک مشکل مقام سے شروع کیا۔ وزیر اعظم پاکستان کی قیادت میں موجودہ حکومت نے انتھک محنت سے حالات پر قابو پایا ہے اور کئی اہم اور دور رس نتائج کی حامل معاشی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جن میں موجودہ مالی سال میں سیلاب نقصانات اور امریکہ ایران جنگ کے باوجود ہماری معاشی شرح نمو تین اعشاریہ سات فیصد (3.7) تک پہنچ چکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری بڑی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت بڑھ رہی ہے، اس مالی سال میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد تک رہی ہے جبکہ خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد کی شرح نمو سامنے آئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ لارج سکیل مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں کی شرح نمو پچھلے چار سالوں کی بلند ترین سطحوں پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو ایک نیا سنگ میل ہے، جی ڈی پی کے حجم میں اضافے کی وجہ سے ہماری فی کس آمدن پچھلے سال کے 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی واقع ہوئی اور یہ شرح 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے 11.5 فیصد پر آگئی ہے، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے یہ تین سال قبل 4 ارب ڈالر سے کم تھے جو اب بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے زائد ہو چکے ہیں جو کہ تقریبا 3 مہینوں کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر بھی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں، پچھلے مالی سال کے 38 ارب ڈالر کے مقابلے میں اس مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ترسیلات زر کا حجم 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ انہوںنے کہاکہ توقع ہے کہ سال بھر کی ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی جو کہ ہماری تاریخ کی بلند ترین سطح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح مالی سال 23-2022 میں 8.5 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے،یعنی صرف 3 سال میں ملکی معیشت کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں قریبا 2 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، ان اقدامات کے نتائج ہمارے مالیاتی استحکام میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی خسارہ جون 2023 میں جی ڈی پی کا 7.8 فیصد تھا جو موجودہ مالی سال کے اختتام تک 4 فیصد تک آجائیگا، دو سال قبل ہمیں پرائمری بیلنس میں جی ڈی پی کے 0.7 فیصد کے برابر خسارہ درپیش تھا۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ مالی سال میں ہم پرائمری بیلنس کو 1.6 فیصد کے سرپلس تک لے آئے ہیں، اس طرح پرائمری بیلنس میں جی ڈی پی کے حساب سے 2.3 فیصد کی بہتری آئی ہے،پچھلے مالی سال میں افراط زر کی شرح گزشتہ سال کی 23.4 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آگئی تھی۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ سال کے دوران بھی ایران امریکہ جنگ کے باوجود بھی مہنگائی کی اوسط شرح تقریباً 7فیصد رہنے کی توقع ہے جو کہ موجودہ مالی سال کے تخمینہ 7.5 فیصد سے کم ہے، حالیہ مہینوں میں افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطی کی کشمکش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے بادل چھٹتے ہی مہنگائی کی شرح بھی کم ہو جائیگی، ہمارے معاشی اور مالیاتی استحکام کی وجہ سے ہماری معیشت پر عالمی ترقیاتی اور مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھا ہے اور دنیا کی بڑی ریٹنگ ایجنسیوں موڈیز، فچ اور ایس اینڈ پی نے پاکستان کی ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا ہے جس سے ہماری کریڈٹ ریٹنگ مستحکم ہوئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اسی اعتماد کا نتیجہ ہے کہ پاکستان 2022 کے بعد پہلی مرتبہ بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں واپس آیا، چار سال میں پاکستان نے پہلی مرتبہ 750 ملین ڈالر یورو بانڈ کا کامیابی سے اجرا کیا،عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہمارے بانڈز کی طلب مستحکم رہی، اس کا تسلسل ہمیں پچھلے ماہ نظر آیا جب پاکستان نے پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ملکی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ جاری کیا جس کی مانگ ہماری پیشکش سے 5 گنا زیادہ تھی ۔
یہ 2.5 فیصد مارک اپ پر جاری کیا گیا اس طرح پاکستان دنیا کے دوسرے بڑے معاشی نظام کا حصہ بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بہتری کے پاکستان سٹاک ایکسچینج پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس بہتری کے پیچھے پاکستان کے کارپوریٹ شعبے کی بہتر کارکردگی ہے۔ کارپوریٹ شعبے نے جنوری، مارچ 2026 میں پچھلے سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ منافع حاصل کیا جبکہ موجودہ مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں یہ منافع 9 فیصد رہا ہے،اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں پچھلے ایک سال میں 173000 نئے سرمایہ کاروں کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ ان نئے سرمایہ کاروں میں ایک بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس سال میں اب تک 11 آئی پی اوز کا اجرا ہو چکا ہے جو کہ پچھلی 2 دہائیوں میں ایک سال میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح ایس ای سی پی میں 39 ہزار نئی کمپنیوں کا اندراج ہوا ہے۔ دنیا کی ترکش پیٹرولیم، گلوگل رقمی ایڈ پورٹس، علی بابا گروپ، آرمکو سمیت بڑی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے قائم کردہ ٹیکنالوجی زونز میں 250 سے زائد نئی کمپنیوں نے اپنا کاروبار شروع کیا ہے اور 25 ہزار سے زائد ٹیک پروفیشنلز کو روزگار ملا ہے جو نئے اور موجودہ سرمایہ کاروں کا پاکستان میں کاروباری ماحول پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اسی ایوان میں، اپنی بجٹ تقریر کے دوران میں نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ہم دہائیوں سے التوا کا شکار نجکاری کے ایجنڈا کو عملی شکل دیں گے،میں اس ایوان کو بتاتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں کہ یہ وعدہ صرف وعدہ نہیں رہا بلکہ ایک حقیقت بن چکا ہے، ہم نے فرسٹ وومن بینک کی نجکاری سے آغاز کیا اور پھر 23 دسمبر 2025 کو پوری قوم نے دیکھا کہ اسلام آباد میں ایک شفاف اور براہ راست ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی نیلامی کے ذریعے پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے)کو مجموعی طور پر 185 ارب روپے کے عوض نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا،یہ کامیاب و تاریخی نجکاری وزیر اعظم کے اس ویژن کے عین مطابق ہے کہ نجی شعبہ ہی ملک کی پائیدار معاشی ترقی کا ضامن اور علم بردار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی کامیاب نجکاری کے بعد ہم ایک پانچ سالہ منصوبے پر عمل پیرا ہیں جس کے تحت کئی حکومتی اداروں کو نجی شعبہ کے حوالے کیا جائے گا اس میں جینکوز، ڈسکوز، بینک، انشورنس کمپنیاں اور ہوائی اڈے شامل ہیں۔ اس سلسلے میں تین ڈسکوز کے پہلے بیچ کی نجکاری کیلئے اظہار دلچسپی کے نوٹس جاری ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ایف بی آر میں اصلاحات کے حوالے سے بتایا کہ یہ معاشی استحکام کی بنیاد ہے، ایک فعال، متحرک اور شفاف ٹیکس انتظامیہ کسی بھی ریاست کی معاشی خود مختاری کی ضمانت ہے، ٹیکس کی وصولی کے بغیر کاروبار مملکت سر انجام نہیں پاسکتا اور نہ ہی ترقیاتی کاموں کے لیے وسائل مہیا ہو سکتے ہیں،اسی لیے ایف بی آر میں جامع اور وسیع تر اصلاحات جاری و ساری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کے اب تک کے نتائج بڑے حوصلہ افزا رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مالی سال 2022-23 میں ایف بی آر کی سالانہ ٹیکس وصولی 7200 ارب روپے تھی جو کہ اگلے تین سالوں میں دو گنا ہوگئی اور موجودہ مالی سال کے اختتام پر 13000 ارب روپے تک پہنچ جائے گی، یہ اضافہ ایک ایسی کار کردگی ہے جس کی نظیر پاکستان کی حالیہ تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ یہ صرف محصولات میں اضافہ نہیں بلکہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک سٹرکچرل تبدیلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کی قیادت خود وزیر اعظم محمد شہباز شریف کر رہے ہیں جو ہفتہ وار اجلاسوں کی خود صدارت کرتے ہیں اور پیش رفت کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس تبدیلی کے ٹھوس ثمرات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سب سے پہلے پروڈکشن مانیٹرنگ کا نظام ہے جس میں مرکزی ڈیش بورڈز، وڈیو اینالٹکس اور ٹمپرنگ الرٹس سے مدد لی جا رہی ہے،یہ نظام 27 سیمنٹ فیکٹریوں اور 75 شوگر ملوں پر نافذ ہو چکا ہے، صرف ان دو شعبوں سے سالانہ بنیاد پر تقریبا 61 ارب روپے اضافی ٹیکس متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور مشین لرننگ پر مبنی کمپلائنز رسک مینجمنٹ کا نظام 840 سے زائد ہائی رسک کیسز کی نشاندہی کر چکا ہے جن کا متوقع ٹیکس امپکٹ تقریباً 34ارب روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جائیداد کی منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کو معقول بناتے ہوئے فائلرزکیلئے خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے 1.25 اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز ہے، اس سے تعمیراتی شعبہ کی سرگرمیاں زورپکڑیں گی اور اس شعبہ میں نشونما ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آمدنی کی 4 سلیبز کے تنخواہ دار افراد کوریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں جو تنخواہ دار 22 سے 32 لاکھ روپے کے درمیان سالانہ تنخواہ لیتے ہیں ان پر ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد، 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے تک کے درمیان آمدنی والے تنخواہ داروں کیلئے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ روپے تک کی آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد اور 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے، تنخواہ پر عائد ٹیکس کی شرح میں کمی کے علاوہ ایک اور اہم ریلیف قدم اٹھاتے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،یہ ایک دیرینہ مطالبہ تھا اور حکومت کو بھی اس کا احساس تھا، گزشتہ بجٹ میں اس سرچارج کی شرح کو 10 فیصد سے 9 فیصد کیا گیا اور اب اس کو مکمل ختم کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبہ ہماری معیشت کی نمو کی ضمانت بننے والے زرمبادلہ کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہے اس وقت برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی مد میں مجموعی طورپر 2 فیصد ٹیکس عائد ہے جسے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے،اس کے علاوہ کریڈٹ، ڈیبٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کم کر کے 0.5 فیصد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی اثاثے رکھنے پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے، اس ٹیکس کو ختم کرنے سے پاکستانیوں کو اپنی غیر ملکی مالیاتی حیثیت ریکارڈ پر لانے کی حوصلہ افزائی ہو گی جس سے کمپلائنز ڈاکومنٹیشن اور اضافی ریونیو کا حصول ممکن ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے دکانداروں کیلئے فکس ٹیکس متعارف کرایا جا رہا ہے، ہم کئی دہائیوں سے پاکستان کے ریٹیلرز کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے آ رہے ہیں، چھوٹے دکاندار اپنے اردگرد کے لوگوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں، یہ چھوٹے دکاندار کراچی سے چترال تک تجارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ اور ان کی اکثریت ابھی تک ٹیکس سے باہر ہے، ان کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت کے بعد 20 کروڑ روپے تک یا اس سے کم کی سالانہ آمدن پر انہیں 25 ہزار روپے سالانہ جمع کرانا ہو گا، اس نظام کے تحت اپنی سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس ادا کرینگے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ میں تھرڈ شیڈول کے دائرہ کار کو وسعت دی جا رہی ہے اور اس میں فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز کی کیٹگری کو شامل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کے تحت نیشنل فیس لیس مراکز بنانے جا رہے ہیں جو صوابدیدی اور غیر صوابدیدی افعال کو ایک دوسرے سے الگ کر دے گا، یہ مراکز صوابدیدی اختیارات جیسا کہ آڈٹ اسسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول ہونگے، ٹیکس دہندہ اور ٹیکس آفیسر کے مابین کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو گا، خودکار طریقہ کار کے تحت کسی آفیسر کو کیسز تفویض کئے جائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ایک علیحدہ آڈٹ یونٹ اس کا معائنہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک خود کار میکنزم متعارف کرا رہے ہیں جس میں ٹیکس پیئر کے اندراج کردہ ڈیٹا اور ایف بی آر کے پاس مختلف ذرائع سے موجود ڈیٹا میں سقم کی نشاندہی کی جائے گی اس اقدام سے روایتی آڈٹ کے طریقہ کار میں ہونے والے اخراجات، تاخیر اور پریشانی کو ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں پہلا قدم جعلسازی کیخلاف اٹھایا جا رہا ہے، پیٹرولیم بیسڈ سالونٹس جن میں سفید سپرٹ پیٹرولیم نفتھا اور منزل تارپین آئل پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے یہ اشیا پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے دائرہ سے باہر آتی ہیں لیکن انہیں تیل میں ملاوٹ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اس ملاوٹ کی وجہ سے ہر سال لاکھوں صارفین کی گاڑیاں اور مشینری خراب ہوتی ہے اس کی وجہ سے تیل کی مصنوعی فروخت کرنے والے دیانتدار تاجروں کو ایسے بددیانت تاجروں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو ملاوٹ شدہ تیل فروخت کرتے ہیں،دوسرا قدم معاشی بوجھ کی تقسیم سے متعلق ہے درآمد کی جانے والی کاروں اور 2 ہزار سی سی سے 3 ہزار سی سی تک کی گاڑیوں کی ایس یو ویز پر 66 فیصد ڈیوٹی عائد ہو گی، اس ٹیکس کا اطلاق بڑے انجن والی درآمدی سی بی یو پر بھی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور ریلیف اقدام کے طور پر بزنس کلاس میں غیر ملکی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو ختم کرنے کی تجویز ہے، اس کا مقصد پاکستان اپنا معیشت کو درکار سرمایہ کاری اور شراکت داری کیلئے ایک پرکشش ملک بن سکے جو ہماری اقتصادی پالیسی کی ترقی کیلئے ضروری ہے۔
کسٹمز میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ آٹو سیکٹر ہماری معیشت کے اہم شعبوں میں شمار ہوتا ہے اس شعبے کی ترقی کیلئے گزشتہ ایک دہائی میں مختلف ترقیاتی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں جس سے اس صنعت کو فروغ ملا اور ملک میں اسمبل او ای ایمز کی تعداد بڑھ کر 118 ہو گئی ان میں ٹریکٹر، موٹر سائیکل، مسافر گاڑیوں اور کمرشل گاڑیوں کے مینوفیکچر شامل ہیں،اس وقت ایک نئی آٹو سیکٹر پالیسی وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیر غور ہے جس کی تفصیلات وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے رکھی جائیں گی تاہم ان میں الیکٹرک موٹر سائیکلز، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں میں موجودہ رعایتی نظام اگلے سال بھی برقرار رہے گا اس سلسلے میں درآمد کئے جانے والے الیکٹر ٹرکوں پر بھی ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز ہے تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ ان سہولیات سے انتہائی مہنگی الیکٹرک گاڑیاں فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات کی منصفانہ فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے ہماری وابستگی غیر متزلزل ہے، کینسر جیسے موذی امراض کی وجہ سے پاکستانی خاندانوں پر پڑنے والے شدید مالی بوجھ کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت ایک نپی تلی اور موثر علاج کی سہولت متعارف کرا رہے ہیں جس کے تحت حکومت کینسر اور دیگر بیماریوں کی ادویات کی مقامی تیاری میں استعمال ہونے والی 100 سے زائد اقسام کے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی مکمل ختم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صنعتوں کو گلوبل ویلیو چینجز میں شامل کرنے اور کاروبار کی لاگت کم کرنے کیلئے گزشتہ سال ایک جامع قومی ٹیرف پالیسی کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا گیا تھا۔ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد خام مال اور متعلقہ اشیا کی ایک بڑی تعداد پر کسٹم ڈیوٹی، اضافی کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں اعلان کردہ تجاویز خصوصا ٹیکس ریلیف اقدامات، توانائی کی قیمتوں میں کمی اور دیگر اقدامات معیشت کے کلیدی شعبوں جیسے زراعت، معدنیات و کان کنی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اے آئی اور ٹیک ڈریون صنعتوں کو فروغ دیں گے جس سے معاشی ترقی کا پہیہ چلے گا اور ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونگے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ خطے کی غیر یقینی صورتحال اور ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے دفاعی شعبے کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے بجٹ کی اہم ترجیح نوجوانوں کو ہنر مند بنانا اور ضروری وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تاکہ وہ اپنے لئے روزگار پیدا کر سکیں اور ملکی ترقی میں حصہ ڈال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح 4 فیصد رہنے کا امکان ہے افراط زر کی شرح 8.2 فیصد، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.6 فیصد جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا دو فیصد ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 15 ہزار 264 ارب روپے رکھا گیا ہے جو رواں مالی سال سے 17.6 فیصد زائد ہے،وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 8 ہزار848 ارب روپے ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے کچھ قومی تقاضوں کو اجتماعی طور پر پورا کرنے کیلئے ایک انتظام پر اتفاق کیا ہے جس کے ملکی سطح پر مثبت اثرات ہونگے، یہ انتظام تعاون پر مبنی کوآپریٹو فیڈرلزم کے جذبے کے تحت اور صوبائی حکومتوں کے آئینی حقوق کو متاثر کئے بغیر طے پایا ہے، اس انتظام کے تحت وفاقی قابل تقسیم محاصل میں صوبائی حکومتوں کا حصہ بدستور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے مطابق رہے گا، مالی سال 2026-27 کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے محصولات کی متوقع وصولی 15 ہزار 264 ارب روپے ہے تاہم سٹرٹیجک قومی تقاضوں کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں تقسیم کیلئے کم از کم 13 ہزار 350 ارب روپے کی رقم محفوظ رکھی گئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ15 ہزار 264 ارب روپے تک وصول ہونے والی رقم وفاقی حکومت کو پاکستان کے آئین 1973 کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی حکومتوں کی جانب سے گرانٹس کی صورت میں قومی سٹرٹیجک تقاضوں کی تکمیل کیلئے دستیاب ہو گی،
یہ انتظام آئندہ مالی سال کیلئے نافذ العمل ہو گا اور مالی سال 2027-28 اور 2028-29 میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی باہمی مشاورت سے اسی نوعیت کی بنیادوں پر اس کی تجدید کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 336 ارب روپے ہو گا، وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 751 ارب روپے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے ہے جس میں 8 ہزار 54 ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کیلئے مختص ہونگے،سرکاری شعبے کا ترقیاتی پروگرام ایک ہزار ارب روپے، وفاقی حکومت کے اخراجات جاریہ کا تخمینہ 17 ہزار 495 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی دفاع حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے اس قومی فرض کیلئے 3 ہزار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، سول انتظامیہ کے اخراجات کیلئے ایک ہزار 71 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں، پنشن کے اخراجات کیلئے ایک ہزار 169 ارب روپے اور بجلی و دیگر شعبوں میں سبسڈی کیلئے ایک ہزار 91 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرانٹس کی مد میں 2 ہزار 680 ارب مختص کئے گئے ہیں جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے ہیں۔ وزیراعظم اپنا گھر سکیم کیلئے 71 ارب روپے ایکسپورٹ ری فنانس سکیم کی توسیع کیلئے 88 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فلیگ شپ انیشیٹو کا دائرہ بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے اسے عملی جامعہ پہنانے کیلئے کفالت پروگرام کو ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا، تعلیمی وظائف پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ تقریبا 92 لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔آئندہ مالی سال میں بی آئی ایس پی کیلئے 8 سو 38 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جو رواں سال سے 17 فیصد زائد ہے جاریہ اخراجات سے آزاد جموں و کشمیر کیلئے ایک سو 46 ارب روپے، گلگت بلتستان کیلئے 88 ارب روپے اور خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے 95 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔



















































