جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

وفاقی حکومت نے قومی اقتصادی سروے 26-2025 جاری کردیا

datetime 11  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے پیش کر تے ہوئے کہاہے کہ

مشرقِ وسطی کے بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی،معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی،معیشت کا حجم 452 ارب 10 کروڑ ڈالرز ہو گیا،رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا تھا، مون سون کی بارشوں کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی،امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہوئی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی،حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی، معاشی ترقی کی شرحِ نمو 3.7 فیصد رہی، توقع تھی کہ رواں مالی سال شرحِ نمو 4 فیصد سے زائد رہے،نجی شعبے کے قرضوں میں جولائی تا مارچ 934 ارب روپے کا اضافہ دیکھا گیا،ملک میں 39000 سے زیادہ نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں ۔ جمعرات کو یہاں قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا تھا، مون سون کی بارشوں کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی۔انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہوئی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی، معاشی ترقی کی شرحِ نمو 3.7 فیصد رہی، توقع تھی کہ رواں مالی سال شرحِ نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتِ حال سے بین الاقوامی معیشتوں کو بھی دھچکا لگا، مشرقِ وسطی کے بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی۔انہوںنے کہاکہ پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالرز سے اوپر چلا گیا، سیمنٹ سیکٹر میں 10 فیصد اور فرٹیلائزر سیکٹر کی گروتھ 17 فیصد رہی، پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد گروتھ ہوئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751ڈالرز سے بڑھ کر 1901ڈالرز ہو گئی، مشرقِ وسطی کی صورتِ حال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے اوپر جاتی۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ معیشت کا حجم 452 ارب 10 کروڑ ڈالرز ہو گیا، جولائی تا مارچ کرنٹ اکائو نٹ 72 ملین ڈالرز مثبت رہا، زرعی شعبے کی شرحِ نمو 2.89 فیصد رہی۔انہوں نے کہا کہ ڈیری اور لائیو اسٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصد حصہ ہے، برآمدات میں کمی کی وجہ چاول اور چینی کی برآمدات میں ڈیڑھ ارب ڈالرز کمی ہے، فوڈ اور ٹیکسٹائل سمیت 16 شعبوں میں مثبت رجحان رہا۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ فری لانسرز کی برآمدات 90 کروڑ ڈالرز تک پہنچ گئیں، زرِمبادلہ کے ذخائر 17ارب 10 کروڑ ڈالرز ہیں، جون کے آخر تک زرِمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالرز ہو جائیں گے، مینوفیکچرنگ کے 22 شعبوں میں سے 16 میں بہتری آئی ہے، اشیا کی طلب میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا، ڈیجیٹل معیشت کا اس میں بڑا اہم کردار ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ خدمات کے شعبے میں شرحِ نمو 4.9رہی، مالیاتی خسارہ 0.7 فیصد اور پرائمری بیلنس سر پلس ہے، مہنگائی 38 فیصد سے کم ہوئی، مالیاتی سائیڈ پر پاکستان سر پلس رہا اور بہتری دکھائی، ترسیلاتِ زر بھی گزشتہ ماہ تاریخی طور پر وصول ہوئیں، وزیرِ اعظم برآمدات کو بڑھانا چاہتے ہیں، ترسیلاتِ زر کا بھی دنیا کی معیشتوں میں بڑا اہم کردار ہے،

بیرونِ ملک پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں کہ وہ ترسیلاتِ زر بھیج رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ مالی نظم ضبط کی وجہ سے مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی ہوئی، جولائی تا مارچ پرائمری سر پلس جی ڈی پی کا 3.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا، ملک کا مجموعی قرضہ جی ڈی پی کے مقابلے میں کم ہو کر 68.5 فیصد پر آ گیا، جولائی تا مئی اوسطا مہنگائی کی شرح 6.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، 29 مئی 2026 تک زرِمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالرز کی سطح پر پہنچ گئے، زرِمبادلہ کے ذخائر میں سالانہ بنیادوں پر 49 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ نمایاں کمی کے بعد محض 252 ملین ڈالرز رہ گیا، پاکستان کے پاس 2.75 ماہ کی درآمدات کا احاطہ کرنے کے لیے امپورٹ کور موجود ہے، جولائی تا مئی اوورسیز پاکستانیوں نے 33.9 ارب ڈالرز کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر بھجوائیں۔وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ اپریل 2026 میں 1 ماہ کے دوران 4.3 ارب ڈالرز کی تاریخی ترسیلات حاصل ہوئیں، آئی ٹی اور ٹیک برآمدات جولائی تا اپریل 3.8 ارب ڈالرز تک پہنچ گئیں، آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 959 ملین ڈالرز رہا، 1 ارب ڈالرز کے قریب پہنچ گیا، روشن ڈیجیٹل اکانٹ میں جمع رقم 12.7 ارب ڈالرز کی تاریخی سطح کو چھو گئی۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ رواں سال اب تک ریکارڈ 11 نئی کمپنیوں کی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ ہوئی، ملک میں 39000 سے زیادہ نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں جو مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے اوپر ہے، نجی شعبے کے قرضوں میں جولائی تا مارچ 934 ارب روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے لیے جولائی تا مارچ 2162 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے، غریب خاندانوں کے لیے بی آئی ایس پی کا بجٹ بڑھا کر 722.5 ارب روپے کر دیا گیا، پی آئی اے، ایف ڈبلیو بی ایل اور ڈسکوز سمیت سرکاری اداروں کی نجکاری پر کام تیز کیا گیا، وزارتوں کے انضمام اور پی ڈبلیو ڈی سمیت متعدد محکموں کو بند کرنے کے لیے رائٹ سائزنگ شروع کی گئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایف بی آر کے محصولات میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا، افراطِ زر میں گزشتہ 2 سال میں بتدریج کمی ہوئی، ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ہوا، رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ کے دوران ترسیلاتِ زر 33 ارب ڈالرز سے تجاوز کر گئیں، بیرونی ادائیگی کے لیے ترسیلاتِ زر بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…