اسلا م آباد (نیوز ڈ یسک) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حکومت تھیلیسیمیا سمیت موروثی بیماریوں کی روک تھام کے لیے شادی سے قبل طبی اسکریننگ کو لازمی بنانے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ بھی ضروری قرار دیا جانا چاہیے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان میں صحت کا شعبہ اب صرف علاج معالجے تک محدود مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ قومی اہمیت اور سلامتی سے جڑا معاملہ بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی پہلی جامع جینیوم پالیسی آئندہ چند ہفتوں میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، جس کا بنیادی مقصد بیماریوں کی بروقت تشخیص اور ان کی پیشگی روک تھام ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی شہری جینیوم ٹیسٹنگ کے لیے بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہیں، جس سے انہیں بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی جدید لیبارٹریز اور سائنسی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی سطح پر عالمی معیار کی جینیوم ٹیسٹنگ سہولیات فراہم کرنی چاہئیں۔
مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ حکومت موروثی اور جان لیوا بیماریوں کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ کو قانونی تقاضا بنانے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس بیماری کے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے بڑھتی ہوئی آبادی اور صحت کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 2030 تک آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہو جائے گا، جبکہ بیماریوں میں مسلسل اضافہ ملکی صحت کے نظام پر اضافی دباؤ ڈال رہا ہے۔
وزیرِ صحت کے مطابق اسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد تشویشناک ہے اور موجودہ نظام زیادہ تر بیماریوں کے علاج پر انحصار کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید تحقیق، جینیوم پروفائلنگ اور احتیاطی اقدامات کے ذریعے بیماریوں کو پیدا ہونے سے پہلے روکنے کی حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ہر سال سنگین بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، جبکہ صحت کے شعبے کو مالی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ اس کے باوجود حکومت صحت کے نظام میں اصلاحات اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔



















































