جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت شادی سے پہلے کونسا ٹیسٹ لازمی قراردینے جارہی ہے؟

datetime 11  جون‬‮  2026 |

اسلا م آباد (نیوز ڈ یسک)وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا ہے کہ حکومت تھیلیسیمیا جیسے موروثی مرض کی روک تھام کے لیے شادی سے قبل طبی معائنے کو لازمی بنانے پر کام کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں کے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کو بھی ضروری قرار دیا جانا چاہیے۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان میں صحت کا شعبہ اب محض طبی مسئلہ نہیں رہا بلکہ قومی سلامتی سے جڑا ایک اہم معاملہ بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی پہلی جامع جینیوم پالیسی آئندہ ایک ماہ کے اندر متعارف کرائی جائے گی، جس کا مقصد بیماریوں کے علاج کے بجائے ان کی بروقت تشخیص اور روک تھام پر توجہ دینا ہے۔مصطفیٰ کمال کے مطابق اس وقت بہت سے پاکستانی شہری جینیوم ٹیسٹنگ کے لیے بیرونِ ملک رجوع کرتے ہیں، جس پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس جدید سائنسی صلاحیت موجود ہے، اس لیے ملک کے اندر ہی عالمی معیار کی جینیوم ٹیسٹنگ سہولیات قائم کی جانی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت مہلک اور موروثی بیماریوں کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے، جن میں شادی سے پہلے تھیلیسیمیا اسکریننگ کو قانونی حیثیت دینا بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام آئندہ نسلوں کو اس بیماری سے محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

وزیرِ صحت نے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور بیماریوں کے بوجھ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 2030 تک آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہو جائے گا، جبکہ موجودہ معاشی حالات میں بیماریوں کا بڑھتا ہوا دباؤ صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور صورتحال کسی وبائی کیفیت سے کم نہیں۔ ان کے بقول موجودہ نظام زیادہ تر بیماریوں کے علاج پر مرکوز ہے، جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ جدید تحقیق اور جینیوم پروفائلنگ کے ذریعے بیماریوں کو جنم لینے سے پہلے ہی روکا جائے۔مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سال مہلک امراض کے علاج پر سینکڑوں ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں، جبکہ صحت کے شعبے کو مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ اس کے باوجود حکومت صحت کے نظام میں بہتری اور جدید اصلاحات کے لیے پرعزم ہے اور عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…