اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)راولپنڈی میں ایک نجی ہسپتال سے وابستہ نرس کی شکایت پر مبینہ اجتماعی زیادتی اور قابلِ اعتراض ویڈیو بنانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان کی جانب سے ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی رہی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تھانہ دھمیال میں درج ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ رواں سال فروری کے آخری ہفتے پیش آیا۔ متاثرہ خاتون کے مطابق وہ دعا کے لیے ایک دربار گئی تھیں جہاں دورانِ قیام دو مسلح افراد انہیں زبردستی ایک پہاڑی علاقے کی جانب لے گئے۔درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ وہاں ملزمان نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس دوران ویڈیو بھی ریکارڈ کی۔ متاثرہ نرس کا کہنا ہے کہ بعد ازاں انہیں خاموش رہنے کے لیے دھمکایا گیا اور خبردار کیا گیا کہ اگر کسی کو واقعے کے بارے میں بتایا گیا تو ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلا دی جائے گی۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمے میں نامزد افراد کی شناخت عاقب گل ویز اور عاشق ریز کے ناموں سے ہوئی ہے۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ چند ہفتے قبل بھی ایک ملزم نے فون پر رابطہ کرکے ویڈیو منظرعام پر لانے کی دھمکی دی تھی۔پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔



















































