اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

گلگت بلتستان انتخابات، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی 9 نشستوں پر کامیاب

datetime 8  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 انتخابی حلقوں میں پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مختلف حلقوں کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی سب سے نمایاں پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے۔ابتدائی نتائج کے مطابق 24 میں سے 18 نشستوں پر فیصلہ سامنے آچکا ہے، جن میں پیپلز پارٹی نے 9، آزاد امیدواروں نے 7، مسلم لیگ (ن) نے 3 جبکہ مجلس وحدت مسلمین نے ایک نشست اپنے نام کی ہے۔گلگت کے حلقہ جی بی اے-1 میں پیپلز پارٹی کے امجد حسین نے 10 ہزار 594 ووٹ حاصل کر کے کامیابی سمیٹی، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے محمد شفیق الدین دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ جی بی اے-2 میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مسلم لیگ (ن) کے حافظ حفیظ الرحمن کو برتری حاصل ہے۔حلقہ جی بی اے-3 سے آزاد امیدوار سید سہیل عباس نے 7 ہزار 877 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی، جبکہ پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر ایڈووکیٹ دوسرے نمبر پر رہے۔نگر کے دونوں حلقوں جی بی اے-4 اور جی بی اے-5 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد علی اختر اور ذوالفقار علی مراد کامیاب قرار پائے۔ ہنزہ کے حلقے جی بی اے-6 سے آزاد امیدوار نیک نام کریم نے میدان مار لیا۔اسکردو کے حلقہ جی بی اے-7 میں دلچسپ مقابلے کے بعد پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی کامیاب رہے، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال دوسرے نمبر پر آئے۔ جی بی اے-9 اسکردو سے بھی پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد نے کامیابی حاصل کی۔دیامر کے حلقہ جی بی اے-16 میں آزاد امیدوار امام مالک نے معمولی فرق سے کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی کے عطا اللہ دوسرے نمبر پر رہے۔ جی بی اے-18 دیامر سے مسلم لیگ (ن) کے ملک کفایت اللہ فاتح قرار پائے۔استور کے دونوں حلقوں جی بی اے-13 اور جی بی اے-14 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار رانا فرمان علی اور رانا محمد فاروق کامیاب ہوئے۔

غذر کے حلقہ جی بی اے-20 میں بھی مسلم لیگ (ن) کے عبدالجہان نے کامیابی حاصل کی۔گانچھے کے حلقہ جی بی اے-22 سے مسلم لیگ (ن) کے ابراہیم ثنائی کامیاب قرار پائے، جبکہ جی بی اے-23 اور جی بی اے-24 میں آزاد امیدواروں انور علی اور اسد شفیق نے کامیابی حاصل کی۔کئی حلقوں میں نتائج ابھی مکمل نہیں ہوئے، جن میں جی بی اے-10، جی بی اے-15، جی بی اے-19 اور جی بی اے-21 شامل ہیں، جہاں مختلف امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔دوسری جانب انتخابی نتائج کے پیش نظر الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے دفتر کے اطراف سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ دفتر جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں اور صرف سرکاری گاڑیوں کو اندر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی 33 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں 24 جنرل نشستیں، 6 خواتین اور 3 ٹیکنوکریٹس کی مخصوص نشستیں شامل ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 17 نشستوں کی حمایت درکار ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…