اسلام آباد(نیوز ڈ یسک)پیٹرولیم ڈیلرز نے کمیشن میں اضافے کے مطالبے پر حکومت کو دو روز کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مطالبات پر مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو ملک گیر سطح پر اہم فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیف ایڈوائزر ملک خدا بخش کے مطابق موجودہ کمیشن کی شرح پر پیٹرول پمپس کا کاروبار چلانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے اور ڈیلرز شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج وزیر پیٹرولیم کو کمیشن میں اضافے کے حوالے سے حتمی مراسلہ بھیجا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اگر آئندہ 48 گھنٹوں میں حکومت کی جانب سے کوئی واضح جواب موصول نہ ہوا تو ایسوسی ایشن کی مرکزی کمیٹی مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ ان کے مطابق حتمی فیصلے سے متعلق اعلان چیئرمین عبد السمیع خان کریں گے۔
ملک خدا بخش نے مزید کہا کہ مئی کے دوران ڈیزل کی فروخت میں تقریباً 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ غیر قانونی اور اسمگل شدہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی دستیابی نے قانونی کاروبار کو شدید متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب ملک کی پانچ آئل ریفائنریز نے بھی حکومت کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ ڈیزل کی کم طلب کے باعث ذخیرہ کرنے کی گنجائش تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ ریفائنریز نے اسمگل شدہ ایندھن کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران حکومت نے ان سے بھرپور تعاون کی درخواست کی تھی، تاہم اب ڈیلرز خود سنگین مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروباری سرمایہ تیزی سے کم ہو رہا ہے اور اگر فوری ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو پیٹرول پمپس کا معمول کے مطابق چلنا مشکل ہو جائے گا۔
ڈیلرز نے وزیر پیٹرولیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کراچی کا دورہ کر کے زمینی حقائق اور کاروباری نقصانات کا خود جائزہ لیں تاکہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔



















































