لاہور (نیوز ڈیسک): پنجاب حکومت نے سرکاری امور کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے تمام اضلاع میں یکم جولائی سے مکمل پیپر لیس نظام نافذ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اس سلسلے میں سول سیکرٹریٹ لاہور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیف سیکرٹری پنجاب نے کی۔ اجلاس میں صوبائی سیکرٹریز نے شرکت کی اور سرکاری دفاتر میں ڈیجیٹل نظام کے نفاذ سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ تمام سرکاری محکمے اور ضلعی سطح کے دفاتر جلد از جلد ای فائلنگ اینڈ آفس آٹومیشن سسٹم (ای فاس) سے منسلک کیے جائیں گے۔ اس اقدام کے تحت آئندہ مالی سال کے آغاز سے سرکاری خط و کتابت، فائلوں کی نقل و حرکت اور دیگر انتظامی امور روایتی کاغذی طریقہ کار کے بجائے مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر انجام دیے جائیں گے۔
چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ ای فاس نظام کا نفاذ صوبے میں ای گورننس کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق کاغذی فائلوں کے استعمال میں کمی سے نہ صرف دفتری کاموں میں تیزی آئے گی بلکہ شفافیت اور جوابدہی کے معیار میں بھی بہتری پیدا ہوگی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سرکاری نظام کو ڈیجیٹل بنانے سے کاغذ، پرنٹنگ اور دیگر دفتری اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کی بچت متوقع ہے۔
اجلاس میں تمام محکموں کو ہدایت دی گئی کہ یکم جولائی سے قبل ملازمین کی ضروری تربیت مکمل کی جائے اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو فعال بنایا جائے تاکہ نئے نظام کے نفاذ میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔



















































