پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

جیل میں ہونے کے باوجود انمول پنکی کی منشیات کی ڈبیہ کی بچوں کے پاپڑ میں سپلائی ! بڑے انکشافات سامنے آگئے

datetime 1  جون‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی) کوکین ڈیلر انمول پنکی کے جیل میں ہونے کے باوجود منشیات کی سپلائی جاری ہے،

بنگلوں اور ریسٹورنٹ میں بچوں کے پاپڑ کے پیکٹس میں سپلائی کی جارہی ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی پولیس کے ہاتھوں ہائی پروفائل کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے باوجود شہرِ قائد میں منشیات فروشی کا گندا دھندہ بدستور جاری ہے۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پنکی گینگ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کوکین کی سپلائی کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے اور اب پوش علاقوں کے بنگلوں اور ریسٹورنٹس تک نشے کی سپلائی کے لیے معصوم بچوں کے پاپڑ اور چپس کے پیکٹس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ مارکیٹ میں سپلائی کی جانے والی منشیات کی خاص ڈبیہ پر باقاعدہ “کوئن میڈم پنکی اور “نام ہی کافی ہے کے الفاظ درج ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملزمہ کے جیل جانے کے باوجود اس کا نیٹ ورک بدستور اسی کے نام پر آپریٹ ہو رہا ہے۔ پنکی نیٹ ورک کے کوکین سپلائر اور گاہکوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی ہے جس میں سپلائر کو گاہک کو مال کی ڈیلیوری اور پیسوں کی منتقلی کے حوالے سے مخصوص ہدایات دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ “میرا رائیڈر آپ کے پاس آئے گا اور آپ کو بہت سارے چپس کے پیکٹ دے گا، ان چپس اور پاپڑ کے پیکٹس کے اندر ہی کوکین والا پیکٹ (ڈبیہ)بھی چھپا کر موجود ہوگا۔آڈیو ریکارڈنگ میں سپلائر گاہک کو آن لائن پیسے ٹرانسفر کرنے کا طریقہ کار بھی سمجھا رہا ہے،

انکشاف ہوا ہے کہ پنکی نیٹ ورک کے کارندوں نے مالی لین دین کو خفیہ رکھنے کے لیے کسٹمرز کو ون زیپ اکانٹس سمیت دیگر نئے آن لائن اکانٹس نمبرز بھی ارسال کر دیے ہیں۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ انمول پنکی کی گرفتاری کو کئی دن گزر جانے کے باوجود کراچی پولیس اس منظم گینگ کے مفرور کارندوں اور نیٹ ورک کے خلاف اب تک کوئی بڑی اور فیصلہ کن کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث شہر میں کوکین کی کھلے عام فروخت کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…