مکو آ نہ(این این آئی) ہر سال پاکستان میں سگریٹ نوشی کے نتیجے میں ایک لاکھ 64 ہزار افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں
جن میں خواتین کی خاصی تعداد بھی شامل ہے، حکومت نے لوگوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے کیلئے سگریٹ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا ہے مگر اس کے بر عکس سگریٹ نوشی کے عادی افراد کم قیمت والی سگریٹ کا استعمال شروع کر دیتے ہیں لیکن سگریٹ نوشی کو ترک نہیں کرتے یہی وجہ ہیکہ ان کے پھیپھڑوں، گلی/ منہ اور معدہ کے کینسر وغیرہ جیسی جان لیوا موذی مرض میں مبتلا ہو کر فوت ہو جاتے ہیں اس تعداد میں ہر سال خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے سرکاری دفاتر/ مسافر گاڑیوں اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کی گئی تھی
مگر عمل درآمد نہ ہونے کی بدولت سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر اور مسافر گاڑیوں میں سگریٹ نوشی کھلے عام ہو رہی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ضرورت اس امر کی ہیکہ ملک بھر میں سگریٹ کی فروخت پر سخت پابندی عائد کردی جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، تب لوگ سگریٹ نوشی ترک کرنے پر مجبور ہوں گے۔



















































