منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ڈیری مصنوعات صحت کیلئے فائدہ مند بھی، نقصان دہ بھی؟ نئی تحقیق نے ماہرین کو چونکا دیا

datetime 19  مئی‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دودھ، پنیر اور دیگر ڈیری مصنوعات انسانی صحت پر بیک وقت مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب کر سکتی ہیں، خصوصا آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کے نظام پر ان کے اثرات نے ماہرین کو نئی بحث میں مبتلا کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی آنتوں میں موجود جراثیم، جنہیں گٹ مائیکروبایوم کہا جاتا ہے، نہ صرف ہاضمے بلکہ قوتِ مدافعت، جسمانی سوزش اور ذہنی کیفیت تک پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ خوراک کا انتخاب اس پورے نظام کو براہِ راست متاثر کرتا ہے، اسی لیے ڈیری مصنوعات کے اثرات کو سمجھنے کیلئے یہ تحقیق خاص اہمیت رکھتی ہے۔تحقیق کی خاص بات یہ رہی کہ اس میں پہلی بار فضلے کے نمونوں کے بجائے بڑی آنت کی اندرونی سطح یعنی کولن لائننگ سے نمونے حاصل کرکے تجزیہ کیا گیا، جس سے ان بیکٹیریا کی زیادہ درست معلومات سامنے آئیں جو براہِ راست جسمانی خلیات کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔تحقیق کے نتائج کے مطابق وہ افراد جو زیادہ مقدار میں دودھ استعمال کرتے ہیں، ان کی آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی اقسام زیادہ پائی گئیں۔ ان میں Faecalibacterium اور Akkermansia جیسے اہم بیکٹیریا شامل ہیں، جو سوزش کم کرنے، ہاضمے کو بہتر بنانے اور آنتوں کی مجموعی صحت برقرار رکھنے میں مددگار سمجھے جاتے ہیں۔ماہرین نے بتایا کہ دودھ میں موجود لیکٹوز بعض مفید بیکٹیریا کیلئے پری بائیوٹک کا کردار ادا کرتا ہے، جس سے ان بیکٹیریا کی افزائش بہتر ہوتی ہے اور آنتوں کا نظام متوازن رہتا ہے۔تاہم تحقیق میں پنیر کے حوالے سے مختلف نتائج سامنے آئے۔ زیادہ پنیر استعمال کرنے والے افراد میں بعض مفید بیکٹیریا کی مقدار کم دیکھی گئی، جس نے ماہرین کیلئے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ آیا مختلف ڈیری مصنوعات کے اثرات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہو سکتے ہیں۔

دہی کے حوالے سے تحقیق میں واضح نتائج سامنے نہیں آسکے کیونکہ شرکا کی جانب سے دہی کا استعمال نسبتا کم ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ سے ماہرین حتمی رائے قائم نہیں کر سکے۔تحقیق کرنے والے ماہرین نے کہا کہ ہر انسان کا مائیکروبایوم منفرد ہوتا ہے، اسی لیے ڈیری مصنوعات کے اثرات بھی ہر فرد میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ بعض افراد کیلئے دودھ اور پنیر فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں جبکہ کچھ افراد میں یہی غذائیں مختلف مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ متوازن غذا، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی آنتوں کی صحت برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف ایک غذا کو مکمل فائدہ مند یا نقصان دہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔یہ تحقیق معروف طبی جریدے نیوٹرینٹس میں شائع ہوئی ہے، جبکہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ڈیری مصنوعات اور انسانی مائیکروبایوم کے تعلق کو مزید بہتر طور پر سمجھنے کیلئے بڑے پیمانے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…