منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

پنکی کیس سندھ حکومت کیلئے ٹیسٹ کیس بن گیا، 800 گاہکوں کا انکشاف

datetime 19  مئی‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کھلے عام چیلنج کرتی تھی کہ اسے گرفتار کر کے دکھایا جائے، تاہم اب اسے گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے تمام سہولت کاروں اور سرپرستوں کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ کیس سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے ایک ٹیسٹ کیس کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ ملزمہ پنکی دورانِ تفتیش اہم انکشافات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمہ نے اعتراف کیا ہے کہ صرف کراچی شہر میں اس کے تقریبا 800 مستقل گاہک موجود ہیں، جو اس نیٹ ورک کی وسعت اور خطرناک نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ انمول عرف پنکی میڈیا میں ایک ہیروئن کے طور پر پیش آ رہی تھی، اسی لیے حکومت نے سیکیورٹی اور دیگر حساس وجوہات کی بنیاد پر اس کا ٹرائل جیل کورٹ میں چلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس منشیات نیٹ ورک سے منسلک تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کے نام معاشرتی بدنامی سے بچانے کیلئے منظر عام پر نہیں لائے جائیں گے، تاہم اس کاروبار کو پس پردہ چلانے والے تمام کرداروں اور بڑے مہروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔وزیر داخلہ سندھ نے صوبے میں منشیات اور گٹکا ماوا کے بڑھتے استعمال کو سنگین سماجی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گٹکے کے بے دریغ استعمال کے باعث منہ کے کینسر میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص اور شہید بینظیر آباد میں گٹکا ماوا کا استعمال سب سے زیادہ رپورٹ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گٹکا ماوا سے متعلق موجودہ قوانین قابلِ ضمانت ہونے کے باعث بعض عناصر اس کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور لیگل گٹکا کے نام پر غیر قانونی کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ ایسی کوئی قانونی حیثیت موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپاری اور چھالیہ بڑی مقدار میں کسٹمز کے ذریعے اسمگل ہو کر ملک میں داخل ہو رہی ہے، جس کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ضیا الحسن لنجار نے ارکانِ سندھ اسمبلی کو بھی سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ تمام ایم پی ایز کو اپنے اپنے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی ختم کرنا ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت اب کسی دبا یا سفارش کو خاطر میں نہیں لائے گی۔وزیر داخلہ سندھ نے دوٹوک انداز میں کہا، میں صوبے کا وزیر داخلہ ہوں، مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ کہاں کون کیا کر رہا ہے۔ منشیات فروشوں اور ان کے سرپرستوں کو ہر صورت عبرت کی مثال بنایا جائے گا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت منشیات فروشوں، گٹکا مافیا اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کریک ڈان جاری رکھے گی تاکہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…