کراچی(این این آئی)انسپکٹر جنرل پولیس سندھ جاوید اوڈھو نے کہاہے کہ پنکی کے کیس میں کئی معتبر نام بھی ہیں، پنکی کے کاروبار میں بہت سے لوگوں کے نام نکل سکتے ہیں۔
میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انمول عرف پنکی کو گلیمرائز نہ کریں کہ اس پر فلم بن جائے، پنکی زیادہ لاہور میں رہتی تھی۔جاوید اوڈھو نے کہاکہ حکومتِ سندھ کے تعاون سے منشیات کے خاتمے پر کام کر رہے ہیں، ایک ہزار سے زائد مجرموں کو پکڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو منشیات کا کام کر رہے ہیں، انہیں نہیں بخشیں گے، منشیات کے خلاف کوششیں کرنا ہر شہری کا کام ہے۔آئی جی سندھ نے کہاکہ ٹاسک فورس بنا رہے ہیں، آپ انہیں معلومات فراہم کریں، شہری کورٹ میں گواہی دینے کے لیے آئیں، منشیات استعمال کرنے والے اور بیچنے والے میں فرق ہے۔جاوید اوڈھو نے کہا کہ بینکنگ معاملات میں ایف آئی اے کو شامل کر لیا ہے، درست ہے کہ یہ ایک اکانٹ نہیں اور بھی ہو سکتے ہیں، پنکی پر بہت سے کیسز ہیں، اے این ایف کے کیسز ہیں، پنکی کو جو مناسب ہے وہی سیکیورٹی دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 50 کروڑ روپے سے زائد ہم نے چالان سے جمع کیے، ارادہ قانون کی پاسداری کرانا ہے، نمبر پلیٹ ٹیمپرنگ پر ہم کارروائی کریں گے۔



















































