بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ایک سے زائد سنگل فیز میٹرلگا کر بجلی بلوں میں سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین کی شامت آگئی

datetime 19  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک سے زیادہ سنگل فیز میٹر استعمال کرکے بجلی کے بلوں میں سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے ایسے صارفین کا مکمل ڈیٹا جمع کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں رعایتی نرخوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے اضافی میٹرز لگانے والوں کو اب نان پروٹیکٹڈ ٹیرف کے تحت بل جاری کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد صارفین کے ماہانہ بلوں میں تقریباً 8 سے 10 ہزار روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

لیسکو سمیت مختلف ڈسکوز نے بجلی کے بلوں پر دی جانے والی سبسڈی کی تفصیلات نمایاں کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس مقصد کے لیے بلوں پر خصوصی کیو آر کوڈ بھی شامل کیا جا رہا ہے تاکہ اضافی میٹرز رکھنے والے صارفین کا ریکارڈ مرتب کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق نئے نظام کے تحت صرف حقیقی اور مستحق صارفین کو ہی پروٹیکٹڈ کیٹیگری کی رعایت فراہم کی جائے گی۔ بجلی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جو صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کریں گے، ان کی سبسڈی ختم کر دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…