جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

’’بیٹی کی قبر پر جاتی ہوں تو معافیاں مانگتی ہوں‘‘، عشرت فاطمہ نے زندگی کا دکھ بھرا لمحہ سنادیا

datetime 18  مئی‬‮  2026 |

لاہور( این این آئی)سینئر براڈ کاسٹر عشرت فاطمہ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بچپن میں اپنی سانولی رنگت پر خدا سے شکوہ کیا کرتی تھیں

تاہم آج وہ اپنی شخصیت اور زندگی پر اللہ کی شکر گزار ہیں۔ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے عشرت فاطمہ نے کہا کہ فخر بہت بڑی چیز ہے میں صرف اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں اور اس میں میرے شوہر ثاقب نے مجھے بہت حوصلہ دیا ہے۔عشرت فاطمہ نے اپنی ذاتی زندگی کے ایک انتہائی جذباتی پہلو کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پہلی بیٹی پیدائش کے بعد انتقال کر گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب میری بیٹی پیدا ہوئی تو میں نے اپنی بہن سے سب سے پہلے اس کے رنگ کے بارے میں پوچھا۔ آج بھی جب میں قبرستان جاتی ہوں تو اس سے معافی مانگتی ہوں کہ شاید میں اچھی ماں ثابت نہیں ہوئی اسی لیے اللہ نے اسے واپس لے لیا۔ اداکارہ نے معاشرتی رویوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں رنگت اور ظاہری شکل کو لے کر غیر ضروری تعصب پایا جاتا ہے جو ختم ہونا چاہیے۔

لوگ دوسروں کا دل دکھانے اور مذاق اڑانے سے گریز نہیں کرتے جبکہ انہیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ سامنے والے شخص پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…