لاہور( این این آئی)سینئر براڈ کاسٹر عشرت فاطمہ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بچپن میں اپنی سانولی رنگت پر خدا سے شکوہ کیا کرتی تھیں
تاہم آج وہ اپنی شخصیت اور زندگی پر اللہ کی شکر گزار ہیں۔ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے عشرت فاطمہ نے کہا کہ فخر بہت بڑی چیز ہے میں صرف اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں اور اس میں میرے شوہر ثاقب نے مجھے بہت حوصلہ دیا ہے۔عشرت فاطمہ نے اپنی ذاتی زندگی کے ایک انتہائی جذباتی پہلو کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پہلی بیٹی پیدائش کے بعد انتقال کر گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب میری بیٹی پیدا ہوئی تو میں نے اپنی بہن سے سب سے پہلے اس کے رنگ کے بارے میں پوچھا۔ آج بھی جب میں قبرستان جاتی ہوں تو اس سے معافی مانگتی ہوں کہ شاید میں اچھی ماں ثابت نہیں ہوئی اسی لیے اللہ نے اسے واپس لے لیا۔ اداکارہ نے معاشرتی رویوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں رنگت اور ظاہری شکل کو لے کر غیر ضروری تعصب پایا جاتا ہے جو ختم ہونا چاہیے۔
لوگ دوسروں کا دل دکھانے اور مذاق اڑانے سے گریز نہیں کرتے جبکہ انہیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ سامنے والے شخص پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔



















































