اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) ڈونلڈ ٹرمپ اور ژی جن پنگ کے درمیان گریٹ ہال آف دی پیپل میں اہم ملاقات ہوئی،
جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات، عالمی امن، تجارت اور مختلف بین الاقوامی تنازعات پر تبادلۂ خیال کیا۔چینی صدر ژی جن پنگ نے امریکی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ میں ٹرمپ کی میزبانی خوش آئند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کے مضبوط اور مستحکم تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے بھی اہم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی امن و استحکام کے لیے دونوں بڑی طاقتوں کا تعاون ضروری ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ژی جن پنگ نے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ تائیوان کا معاملہ چین اور امریکا کے تعلقات میں سب سے حساس مسئلہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس معاملے میں کسی بھی غلط اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی یا تصادم پیدا ہو سکتا ہے، جو تعلقات کو خطرناک صورتحال تک لے جا سکتا ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، روس یوکرین جنگ اور جزیرہ نما کوریا کی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اہم عالمی اور علاقائی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس موقع پر صدر ٹرمپ نے پرتپاک استقبال پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور ژی جن پنگ کو ایک عظیم رہنما قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اور چینی صدر کے تعلقات ہمیشہ مثبت رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کاروباری شخصیات اور ان کے وفد کے ارکان چین کے ساتھ تجارتی روابط میں توسیع کے خواہاں ہیں۔ ان کے بقول امریکا تجارت اور سرمایہ کاری کے میدان میں چین کے ساتھ مزید آگے بڑھنا چاہتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات مستقبل میں پہلے سے زیادہ بہتر ہوں گے۔ ٹرمپ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ضرور رہے، لیکن بالآخر مسائل کا حل نکال لیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مشکل مواقع پر وہ اور ژی جن پنگ براہِ راست رابطے میں رہتے ہیں۔ملاقات کے اختتام پر صحافیوں نے ایلون مسک اور جینسن ہوانگ سے بھی سوالات کیے۔ ایلون مسک نے گفتگو کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات انتہائی خوشگوار رہی، جبکہ جینسن ہوانگ نے کہا کہ ٹرمپ اور ژی جن پنگ کے درمیان ملاقات بہت عمدہ رہی۔



















































