اسلام آباد (این این آئی)سرکاری افسران کے اثاثے دسمبر 2026ء سے پبلک کرنے کا فیصلہ کر لیاگیا،اثاثے ڈیجیٹل نظام کے تحت ظاہر کیے جائیں گے،
قائمہ کمیٹی خزانہ نے خشک دودھ کی متنازع نیلامی پر کسٹمز حکام سے رپورٹ طلب کرلی ۔جمعرا تکو سینٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سرکاری افسران دسمبر 2026ء تک اپنے اثاثے ڈیجیٹلی ڈیکلیئر کریں گے جبکہ ان اثاثوں کا کچھ حصہ عوام کیلئے بھی دستیاب ہوگا۔حکام کے مطابق ایف بی آر کا آئی ٹی نظام استعمال کیا جائے گا اور سرکاری افسران کے اثاثوں میں غیر معمولی اضافے پر ریڈ فلیگ جاری کیا جائے گا۔اجلاس میں کسٹمز انفورسمنٹ کراچی کی جانب سے خشک دودھ کے دوہزار بیگز ضبط اور نیلام کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی اراکین نے سوال اٹھایا کہ پانچ کروڑ 44لاکھ روپے مالیت کے بیگز صرف 2کروڑ روپے میں کیوں نیلام کیے گئے۔کسٹمز حکام نے موقف اختیار کیا کہ سامان کی دستاویزات جعلی تھیں تاہم کمیٹی نے معاملے کی تحقیقات کرکے ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔اجلاس میں ایف بی آر کے گوداموں میں آگ لگنے کے واقعات اور کوئٹہ میں ضبط شدہ چاندی کے وزن میں فرق کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ کیس میں ملوث افسران کو معطل کردیا گیا ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔



















































