اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں استعمال کی جانے والی کینسر سے بچاؤ کی دو ادویات جعلی ثابت ہوئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ڈریپ حکام نے بتایا کہ ان مشکوک ادویات کی نشاندہی لاہور کے طبی ماہرین کی جانب سے کی گئی، جس کے بعد معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کی گئیں۔ جانچ کے دوران ادویات کی پیکنگ، لیبلنگ اور بارکوڈ میں واضح بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ دونوں ادویات اصل کمپنی کی تیار کردہ نہیں تھیں۔ مزید یہ کہ متعلقہ غیر ملکی کمپنی نے بھی تصدیق کی ہے کہ مذکورہ ادویات جعلی ہیں۔
ڈریپ کے مطابق جعلی ادویات کی ترسیل میں ملوث عناصر اور ان کی سپلائی چین کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔



















































