اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران نے امریکا اور اسرائیل کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کی سرزمین پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو تہران یورینیم افزودگی کی شرح 90 فیصد تک بڑھانے پر غور کر سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمانی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں ایران مختلف آپشنز پر غور کرے گا، جن میں یورینیم کی افزودگی کو 90 فیصد تک لے جانا بھی شامل ہو سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر ایرانی پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی اور قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ایران کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سطح پر خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ماہرین کے مطابق 90 فیصد یورینیم افزودگی انتہائی حساس مرحلہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ہتھیاروں کے معیار کے قریب سمجھی جاتی ہے۔
مغربی ممالک پہلے ہی ایران کے جوہری پروگرام پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑھتے دباؤ، پابندیوں اور ممکنہ عسکری کارروائیوں کے تناظر میں تہران کا یہ بیان خطے میں مزید کشیدگی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔



















































