بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف نے پاکستان سے ٹیکس نیٹ، بجلی، گیس، پٹرولیم قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کر دیا

datetime 9  مئی‬‮  2026 |

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کیا جائے اور معاشی اصلاحات کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں حقیقی لاگت کے مطابق رکھی جائیں، جبکہ سرکاری اداروں کی نجکاری اور ان میں اصلاحات کے عمل کو بھی جلد مکمل کیا جائے۔

ادارے نے سماجی شعبوں خصوصاً تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ پر اخراجات بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے جاری اصلاحاتی اقدامات کو برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی سہولت (RSF) کے تحت 1.4 ارب ڈالر پروگرام میں سے 22 کروڑ ڈالر کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 1.32 ارب ڈالر کی منظوری بھی سامنے آئی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باوجود پاکستان نے کئی معاشی اہداف حاصل کیے اور ملکی معیشت میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کو کاروباری سرگرمیوں میں مقابلے کی فضا پیدا کرنا ہوگی تاکہ صنعتی اور پیداواری شعبہ مضبوط ہو سکے۔

ادارے نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہ سکتی ہے جبکہ مہنگائی کی اوسط شرح 7.2 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

اعلامیے کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 17.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.9 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا کہ مجموعی قرضہ ملکی معیشت کے 73.8 فیصد کے برابر رہ سکتا ہے۔

آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کو بروقت اور مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنا ضروری ہے، جبکہ قیمتوں اور اجرتوں پر ممکنہ دباؤ کی مسلسل نگرانی بھی جاری رکھی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…