واشنگٹن (این این آئی)امریکا میں ایوانِ نمائندگان کے تقریبا 35 ارکان نے ایک نیا قانون پیش کیا ہے
جس کے تحت بھارتی اور دیگر غیر ملکی طلبہ کے لیے تعلیم کے بعد امریکا میں ملازمت اور مستقل رہائش کے روایتی راستے سخت متاثر ہو سکتے ہیں۔مجوزہ قانون کو ایچ ون بی ویزے کے غلط استعمال کے خاتمے کا قانون 2026 کہا جا رہا ہے۔اس مجوزہ قانون کے مطابق نئے ایچ ون بی ویزوں پر 3 سال کی پابندی لگائی جائے گی، سالانہ کوٹہ 65000 سے کم کر کے 25000 کرنے کی تجویز ہے جبکہ انتخاب کا نظام لاٹری کے بجائے صرف زیادہ تنخواہ کی بنیاد پر ہو گا۔قانون میں تجویز کیا گیا ہے کہ کم از کم سالانہ تنخواہ 2 لاکھ ڈالرز مقرر کی جائے، بیرونی کمپنیوں کے ذریعے بھرتی کے نظام پر پابندی لگائی جائے اور ایچ فور ویزا رکھنے والے افراد کے اہلِ خانہ کے لیے ملازمت کی اجازت بھی ختم کر دی جائے۔مجوزہ بل میں غیر ملکی طلبہ کے لیے اختیاری عملی تربیت کا نظام بھی ختم کرنے کی تجویز شامل ہے جو فی الحال تعلیم کے بعد امریکا میں کام کرنے کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اسی طرح مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ کی طرف جانے کا راستہ بھی بند کرنے کی بات کی گئی ہے۔
یہ مجوزہ قانون ایک ایسے سیاسی گروہ کی جانب سے سامنے آیا ہے جو سخت امیگریشن پالیسیوں کا حامی سمجھا جاتا ہے، اس گروہ کے نزدیک غیر ملکی طلبہ اور کارکنوں کی وجہ سے مقامی شہریوں کی ملازمتوں اور اجرتوں پر دبا بڑھتا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بل کے منظور ہونے سے سب سے زیادہ متاثر بھارتی طلبہ ہوں گے، اس پیش رفت سے خاص طور پر بھارت کے ان ہزاروں طلبہ میں تشویش پائی جا رہی ہے جو اعلی تعلیم کے بعد امریکا میں کیریئر بنانے کی امید رکھتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اگر یہ تبدیلیاں منظور ہو گئیں تو امریکی تعلیمی اور روزگار کا روایتی راستہ بڑی حد تک تبدیل ہو سکتا ہے جبکہ طلبہ کے لیے کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کی طرف رجحان بڑھنے کا امکان ہے۔



















































