جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ نے ایران سے جن 8 خواتین کو پھانسی نہ دینے کا مطالبہ کیا وہ کون ہیں اور ان پر کیا الزامات ہیں؟

datetime 23  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوزڈ یسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک بیان میں ایران سے اپیل کی ہے کہ مبینہ طور پر سزائے موت کا سامنا کرنے والی 8 خواتین کو رہا کیا جائے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکے۔

غیر ملکی میڈیا، خصوصاً نیویارک پوسٹ کے مطابق یہ خواتین رواں سال کے اوائل میں ایران کے مختلف شہروں میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد حراست میں لی گئی تھیں۔ زیرِ حراست افراد میں ایک کم عمر لڑکی اور ایک خاتون ڈاکٹر بھی شامل بتائی جاتی ہیں۔رپورٹس میں جن خواتین کے نام سامنے آئے ہیں ان میں بیتا ہمتی، ڈیانا طاہرآبادی، محبوبہ شعبانی، وینس حسینی نژاد، گلناز نراقی، غزال غلندری، پناہ موحدی اور انسیہ نجاتی شامل ہیں، تاہم ان ناموں کی مکمل طور پر آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔اطلاعات کے مطابق بیتا ہمتی پر دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ استعمال کرنے، احتجاج میں شرکت اور ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں، جبکہ انہیں اپنے شوہر سمیت دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کر کے سزائے موت سنائی گئی۔اسی طرح 16 سالہ ڈیانا طاہرآبادی پر “محاربہ” یعنی خدا کے خلاف جنگ کا الزام عائد کیا گیا، جو ایران میں انتہائی سنگین جرم تصور ہوتا ہے۔ محبوبہ شعبانی پر زخمی مظاہرین کی مدد کرنے کا الزام ہے جس کے بعد انہیں حراست میں لیا گیا۔مزید برآں، وینس حسینی نژاد کو جنوری میں گرفتار کیا گیا اور اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ ان سے سرکاری میڈیا پر اعترافِ جرم کروایا گیا۔ گلناز نراقی، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ان سے زبردستی اعترافی بیان لیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان مقدمات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں میں شفافیت کا فقدان ہے اور جبری اعترافات جیسے معاملات بھی سامنے آ رہے ہیں۔یاد رہے کہ جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران بڑی تعداد میں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اور متعدد کو سخت سزائیں سنائی گئیں، جس پر عالمی سطح پر بھی خدشات اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…