بدھ‬‮ ، 22 اپریل‬‮ 2026 

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

datetime 23  اپریل‬‮  2026
لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی تاریخ کے پہلے ارب پتی (بلینئیر) ہیں‘ یہ 2001ء میں فوربز کی بلینئیرز کی فہرست میں پہلے چینی شہری کی حیثیت سے آئے اور دنیا میں تہلکہ مچا دیا‘لیوبرادرز کی کل دولت ایک بلین ڈالر تھی‘ یہ جانوروں کی خوراک بناتے تھے‘ ان کی کمپنی کا نام ہوپ گروپ تھا‘ یہ دونوں بھائی شیچوان سے تعلق رکھتے تھے‘ 1980ء تک غریب تھے‘ جوانی میں بٹیر کے انڈے بیچنا شروع کیے پھر مرغیوں کے فارم بنائے اور ترقی کرتے چلے گئے یہاں تک کہ 1982ء میں انہوں نے چین میں پہلا پرائیویٹ انٹرپرائز گروپ رجسٹرڈ کرالیا اور پھر 2001ء میں چین کے پہلے بلینئیرز بن گئے‘ یہ چین اور دنیا دونوں کے لیے حیران کن تھا‘ اس کے بعد تین سال تک سناٹا رہا‘ چین میں کسی نئے بلینئیرنے جنم نہیں لیا لیکن 2004ء میں مزید تین گروپ بلینئیرز کی فہرست میں شامل ہوگئے‘ان میں سی آئی ٹی آئی سی کے چیئرمین لاری یونگ ڈیڑھ بلین ڈالر کے ساتھ دوسرے چینی ارب پتی‘ گوم الیکٹریکل کے بانی ہونگ گونگ یو ایک اعشاریہ تین بلین ڈالر کے ساتھ تیسرے اور شاندا انٹرایکٹو کے بانی چن تیانگ قیو ایک ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے چینی ارب پتی تھے اور اس کے بعد لائین لگ گئی یہاں تک کہ 2026ء میں دنیا کے کل 3428 بلینئیرز میں چین کے ایک ہزار ایک سو دس بلینئیرز شامل تھے اور ان میں سے نوے فیصد سیلف میڈ ہیں‘ چین میں یہ معاشی انقلاب کیسے آیا؟ اس کے اصل بانی چینی لیڈر ڈینگ شیائوپھنگ تھے‘ یہ مائوزے تنگ کے بعد چین کے لیڈر بنے اور انہوں نے 1978ء میں چین کی معیشت کو پوری دنیا کے لیے کھول دیا‘ ڈینگ شیائو پھنگ نے سب سے پہلے زراعت کو اوپن کیا‘ انہوں نے کسانوں کو اپنی اضافی فصل مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت دے دی‘ اس کے بعد انہوں نے سپیشل اکنامک زون بنائے اور ان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی سہولتیں اور ٹیکس فری مراعات دیں اوریوں چین کے دروازے پوری دنیا کے لیے کھل گئے‘ اس کا یہ نتیجہ نکلا چین دنوں اور مہینوں میں دنیا کا سب سے بڑا انڈسٹریل ہب بنتا چلا گیا‘ چین میں اس وقت 18کروڑ 85 لاکھ کمپنیاں اور فیکٹریاں ہیں‘ 2024ء میں چین میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد پانچ کروڑ 52 لاکھ تھی‘ 2025ء میں ان میں دو کروڑ 58 لاکھ کمپنیوں کا اضافہ ہوگیا‘ چین میں روزانہ اوسطاً
26 ہزار نئے کاروبار شروع ہوتے ہیں اور یہ اوسط دنیا میں سب سے زیادہ ہے‘ ان کمپنیوںمیں شامل چار لاکھ اداروں کا سالانہ ریونیو چار اعشاریہ آٹھ ٹریلین ڈالر ہے‘ ایک ٹریلین ڈالر میں ہزار بلین ڈالر ہوتے ہیں اور پاکستان نے ایک ہفتہ قبل یو اے ای کا قرضہ ادا کرنے کے لیے سعودی عرب سے دو بلین ڈالر لیے تھے جب کہ چین کی چار لاکھ کمپنیاں سالانہ چار ہزار 800 بلین ڈالر کماتی ہیں‘ چین میں چوچی (Zhuji) نام کی کمپنی صرف جرابیں بناتی ہے‘ یہ جرابوں کے 25 ارب جوڑے سالانہ بناتی ہے جب کہ ڈینگ یانگ (Dang Yang) دنیا کے 40 فیصد آئی لینس بناتی ہے‘ سوچوو(Suzhou) انڈسٹریل پارک کا رقبہ 278 مربع کلومیٹر ہے اور اس کے اندر باقاعدہ ٹرینیں چلتی ہیں جب کہ سائنس پارک چونگ گوان سن (Zhong Guan Sun) کا رقبہ 488 سکوائر کلو میٹر ہے‘ اس میں 22 ہزار ہائی ٹیک کمپنیاں ہیں‘ چین میں 25 برسوں میں دنیا کی سب سے بڑی اربنائزیشن ہوئی جس سے 50 کروڑ لوگ دیہات سے شہروں میں منتقل ہوئے جب کہ 25 برسوں میں چین نے 500 نئے اور جدید شہر بنائے‘ یہ صفر سے سو فیصد تک نئے ہیں‘ چین اوسطاً 20 نئے شہر سالانہ آباد کرتا ہے‘ چین میں ہر سال دو فروری سے 13 مارچ تک 40 دن سپرنگ فیسٹول ہوتا ہے‘ اس دوران دنیا کی سب سے بڑی نقل مکانی یا سیاحت ہوتی ہے‘ 2026ء میں 40 دن میں ساڑھے نو ارب پیسنجر ٹرپ ہوئے گویا ہر شخص نے چالیس دنوں میں اوسطاً سات بار پبلک ٹرانسپورٹ یا ائیرلائینز پر سفر کیا‘آپ اس سے چین کی اکانومی کے سائز کا اندازہ کر لیجیے اور یہ حقیقت ہے دنیا میں جتنی بڑی اکانومی ہوگی اسے اتنی ہی زیادہ توانائی چاہیے ہوگی چناں چہ چین اس وقت دنیا میں تیل اور گیس کا سب سے بڑا خریدار ہے‘ یہ روزانہ ایک کروڑ دس لاکھ بیرل تیل اور 314 ملین کیوبک میٹر گیس درآمد کرتا ہے‘یہ اس کے بغیر سروائیو ہی نہیں کر سکتا ‘مثلاً شنگھائی شہر دنیا میں سب سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والا شہر ہے‘ اس میں 210 ارب کلوواٹ بجلی استعمال ہوتی ہے اور یہ پاکستان کی بجلی کی مجموعی پیداوار سے دگنی ہے‘ نیویارک اور ٹوکیو شہر مل کر بھی اس سے تین گنا کم بجلی استعمال کرتے ہیں چناں چہ چین ایک ایسا طوطا ہے جس کی جان تیل اور گیس میں ہے اگر گیس اور تیل بند کر دیا جائے تو چین کی 90 فیصد اکانومی بیٹھ جائے گی اوراس سے امریکا اچھی طرح واقف ہے۔ چین سے پہلے امریکا انڈسٹری اور پیداوار میں دنیا کا لیڈر تھا‘ چین نے سر اٹھایا تو امریکا کو خوشی محسوس ہوئی‘ کیوں؟ کیوں کہ امریکا کی ’’کاسٹ آف پروڈکشن‘‘ بہت زیادہ تھی‘ لیبر بھی مہنگی تھی‘ توانائی کی قیمتیں بھی زیادہ تھیں اور ملک میں پولوشن بھی پھیل رہا تھا لہٰذا جب چین نے امریکی سٹینڈرڈ کی اشیاء سستی اور زیادہ تعداد میں بنانا شروع کیں تو امریکی اور یورپی بزنس مینوں نے سکھ کا سانس لیا‘ یہ دھڑا دھڑ چین گئے اور وہاں سے مصنوعات تیار کرانے لگے یہاں تک کہ امریکا کے جھنڈے بھی چین سے بن کر آنے لگے اور ان کے پیچھے ’’میڈ ان چائنا‘‘ کی مہر لگنے لگی‘ چینی لادین اور بودھ ہیں لیکن دنیا میں سب سے زیادہ جائے نمازیں‘ تسبیحات‘ صلیبیں اور حضرت عیسیٰ ؑ کے مجسمے چین میں بنتے ہیں‘ یہ بھارت کو بھگوانوں کے بت بھی اربوں کی تعداد میں سپلائی کرتے ہیں‘ امریکی اور یورپی 93 فیصد برینڈز چین میں بنتے ہیں‘ مرسڈیز اور بی ایم ڈبلیو تک نے اپنے کارخانے چین میں لگا رکھے ہیں‘ چین بہت چالاک نکلا‘ یہ ایک طرف یورپی اور امریکی مصنوعات بناتا رہا اور دوسری طرف یہ اپنے برینڈز ڈویلپ کرتا رہا‘ چینی برینڈز شروع میں سب سٹینڈرڈ تھے چناں چہ یورپ اور امریکا کو ان سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا لیکن پھر 2016ء آیا اور چینی برینڈز نے یورپ اور امریکا میں تباہی مچا دی اور پہلی مرتبہ بڑی طاقتوں کے کان کھڑے ہو گئے‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماحول اور تبدیلی کے دوران سیاست شروع کی اور ’’میک امریکا گریٹ اگین‘‘ کا نعرہ لگانا شروع کر دیا۔ اس کا خیال تھا ہم نے اگر چین کو نہ روکا تو یہ پورے مغرب کو کھا جائے گا‘ یہ اس سوچ کے ساتھ 2017ء میں پہلی بار صدر بنا‘ اس نے چین اور روس کے ساتھ ٹکرانا شروع کیا لیکن کام یاب نہیں ہو سکا‘ ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد جوبائیڈن صدر بنا‘وہ روایتی سیاست دان تھا‘ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتا تھا چناں چہ بائیڈن کے چار سال امریکی اکانومی کے لیے خوف ناک ثابت ہوئے اور لوگوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کے فلسفے میں جان نظر آنے لگی‘ ٹرمپ نے اس سوچ کا فائدہ اٹھایا اور یہ 2025ء میں دوسری مرتبہ صدر بن گیا اور اس نے آتے ہی چین کے طوطے کی جان نکالنا شروع کر دی یعنی یہ چین کی تیل اور گیس کی ٹونٹی بند کرنے لگا۔ یہ معاملہ اگر صرف تیل اور گیس تک محدود رہتا تو بھی شاید قابل برداشت ہوتا لیکن اس میں ایک اور کردار بھی شامل ہو گیا اور وہ تھا ’’رئیرارتھ منرلز‘‘۔ دنیا میں ایسی 17کیمیائی دھاتیں ہیں جو قدرت نے بہت کم مقدار میں پیدا کیں مگر یہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی اہم ہیں‘ ان کے بغیر فضائی غلبہ ممکن ہے اور نہ بجلی سے چلنے والی گاڑیاں اور سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی‘ یہ دھاتیں لتھونیم‘ سیریم‘ پراسوڈونیم‘ نیوڈونیم‘ پروموتھونیم‘سمارونیم‘ گاڈولونیم‘ تربونیم‘ ڈائی سپورسیم‘ ہولمونیم‘ اربونیم‘ تھیلونیم‘ یوتربولیم‘ لیوٹووٹنم‘ سکینڈنیم اور یوتریونیم ہیں‘ چین دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے 1990ء میں ان کی اہمیت کا اندازہ لگا کر ان پر قبضے کی کوشش شروع کر دی تھی‘ اس اندازے کا پس منظر بھی کم دل چسپ نہیں‘ 1927ء میں منگولیا کے ٹائون بیان اوبو (Bayan Obo) میں پہلی بار یہ دھاتیں دریافت ہوئیں‘ امریکی کمپنیوں کو پتا چلا تو انہوں نے منگولیا میں ان پر کام شروع کر دیا‘ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں چینی سائنس دان متوجہ ہوئے اور یہ ان کی اہمیت سے واقف ہوتے چلے گئے‘ 1980ء کی دہائی میں ڈینگ شیائو پھنگ نے اپنے سائنس دانوں کو پانچ سال میں اس فیلڈ پر مناپلی کا ٹارگٹ دے دیا‘ یہ ٹارگٹ پانچ سال میں مکمل ہو گیا اور 1986ء تک چین رئیرارتھ منرلز میں دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹر بن گیا‘ امریکا میں اس زمانے میں ان منرلز پر صرف ایک کمپنی ایم پی منرلز کام کرتی تھی‘ چین نے وہ بھی خرید لی اور یوں یہ فیلڈ مکمل طور پر چین کے قبضے میں چلی گئی‘ یہ چین کی اتنی بڑی کام یابی تھی کہ 1992ء میں ڈینگ شیائو پھنگ نے اعلان کیا ’’اگرمڈل ایسٹ کے پاس تیل ہے تو ہمارے پاس رئیرارتھ منرلز ہیں‘‘ چین اس کے بعد خاموشی سے ان پر کام کرتا رہا یہاں تک کہ یہ 2010ء میں دنیا کی 95فیصد رئیرارتھ منرلز پیدا کرنے لگا‘ دنیا میں کمپیوٹر‘ لیپ ٹاپ اور موبائل فوآن آئے تو یہ دھاتیں مزید اہمیت اختیار کر گئیں‘ ہمارے موبائل فونز میں قمیض کے بٹن سے چھوٹے دو انتہائی پاورفل مقناطیس ہوتے ہیں‘ یہ مقناطیس ہوا میں موجود لہروں کو کیچ کرتے ہیں اور یوں آواز اور تصویریں ہماری سکرین پر لینڈ کرتی ہیں‘ یہ مقناطیس رئیرارتھ منرلز سے بنتے ہیں‘ ہمارے موبائل فونز‘ لیپ ٹاپس‘ الیکٹرک گاڑیوں‘ سولر پینلز کے انورٹرز‘ بیٹریوں‘ فائیٹر جیٹس‘ میزائلز‘ ڈرونز اور سیٹلائیٹس میں بھی یہی منرلز استعمال ہوتی ہیں اور دنیا یہ منرلز چین سے خریدتی ہے‘ آپ نے کبھی غور کیا دنیا جہاں کے الیکٹرانکس برینڈز چین سے موبائل فونز‘ کمپیوٹرز‘ کیمرے‘ گاڑیاں اور دفاعی سازوسامان کیوں بنواتے ہیں؟ کیوں کہ چین کے پاس رئیرارتھ منرلز ہیں اور یہ اپنی کمپنیوں کو یہ مواد سستا فراہم کرتا ہے جس کے نتیجے میں یہ پراڈکٹس چین میں سستی بنتی ہیںجب کہ دوسرے ممالک یہ مٹیریل امپورٹ کرتے ہیں اور یوں ان کی مصنوعات تین گنا مہنگی ہو جاتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2025ء میں صدر بننے کے بعد چین پر ٹیرف لگا دیا‘ چین نے جواب میں امریکا کو رئیرارتھ منرلز دینے سے انکار کر دیا اور اس کے بعد امریکا میں ٹیکنالوجی کا بحران پیدا ہو گیا جس کے بعد صدر نے ہنگامی طور پر رئیرارتھ منرلز پراجیکٹ شروع کر دیا‘ برازیل کے علاقے سیراورد (Serra Verde) میں تازہ تازہ رئیرارتھ منرلز نکلی تھیں‘ صدر ٹرمپ نے اپریل 2026ء (اسی ماہ) میںاس کمپنی میں دو اعشاریہ 8 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر دی‘امریکی حکومت نے اس کے ساتھ ساتھ رئیرارتھ منرلز کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کو ڈیڑھ سو ملین ڈالر تک امداد اور لون دینے کا اعلان بھی کر دیا جب کہ نیشنل سطح پر ’’فوری تلاش‘‘ کی مہم بھی شروع کر دی گئی‘ پینٹا گان نے بھی ایم پی منرلز میں چار سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر دی یوں امریکا میں رئیر ارتھ منرلز کی دوڑ لگ گئی‘ اب سوال یہ ہے ایران اس گیم میں کہاں آتا ہے؟ اس گریٹ گیم میں ایران اور پاکستان دونوں آتے ہیں‘ ارضیات کے ماہرین کا خیال ہے پاکستان کے بلوچستان اور ایران کے سیستان میں رئیرارتھ منرلز کے بے تحاشا ذخائر ہیں اور یہ اگر امریکا کے پاس آ جائیں تو چین کی مناپلی اور بلیک میلنگ ختم ہو جائے گی‘ چین بھی اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے چناں چہ یہ ایران اور پاکستان دونوں کو اپنے ہاتھ سے نہیں نکلنے دے رہا‘ اب گیم یہ ہے ایران کے پاس تیل اور گیس کے دنیا کے دوسرے بڑے ذخائرکے ساتھ ساتھ رئیرارتھ منرلز بھی ہیں‘ ایرانی یہ منرلز برسوں سے چین کو فروخت کر رہے ہیں جب کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرنے25ستمبر2025 ء کو وائیٹ ہائوس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بلوچستان کی رئیرارتھ منرلز گفٹ کر کے اسے پاکستان کا راستہ بھی دکھا دیا یوں پاکستان اور ایران دونوں امریکا کے لیے اہم ہو گئے‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے3 جنوری 2026ء کو دنیا کے تیل کے سب سے بڑے ذخیرے وینزویلا پر قبضہ کر لیا‘ یہ اب ایران پر قبضہ کر کے تیل‘ گیس اور رئیرارتھ منرلز کے دوسرے بڑے ذخیرے کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے‘ عربوں کا تیل پہلے سے اس کے پاس ہے یوں یہ تیل اور گیس کے پائپ اور بلوچستان اور سیستان کے رئیرارتھ منرلز اپنے ہاتھ میں لے کر چین کی مناپلی توڑنا چاہتا ہے‘ گیم بلکہ گریٹ گیم یہ ہے لیکن یہاں پر ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے (جاری ہے)۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(چوتھا حصہ)


لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…