ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

عالمی توانائی بحران شدید، ایران نے آبنائے ہرمز پر ”ٹول بوتھ “ نظام متعارف کروا دیا

datetime 27  مارچ‬‮  2026 |

تہران (این این آئی)ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر سخت کنٹرول اور مبینہ ٹول وصولی کا نظام نافذ کر دیا ہے،

آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد ایران نے خلیج سے نکلنے والے تیل اور مائع قدرتی گیس لے جانے والے جہازوں کی آمد و رفت محدود کر دی ہے،اس اقدام کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف تقریباً 2000 جہاز گزرنے کے انتظار میں کھڑے ہیں،کئی شپنگ کمپنیاں خطرات کے باعث طویل متبادل راستے اختیار کرنے کے بجائے انتظار کو ترجیح دے رہی ہیں۔ایران کے مطابق صرف وہی جہاز گزر سکتے ہیں جو اس کے خلاف کارروائیوں میں شامل نہ ہوں جیسے کہ ملائیشیا، چین، مصر، جنوبی کوریا اور بھارت سے تعلق رکھنے والے بعض جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق کچھ جہازوں نے یوآن کرنسی میں فیس ادا کی تاہم ادائیگی کی اصل رقم واضح نہیں ہے۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض جہازوں سے 2 ملین ڈالرز تک وصول کیے جا رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون (یو این سی ایل او ایس) کے تحت عالمی آبی گزرگاہوں میں تمام جہازوں کو آزادانہ گزرنے کا حق حاصل ہے اور اس حق کو معطل نہیں کیا جا سکتا۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی چوڑائی صرف 21 ناٹیکل میل ہے،

ایران اور عمان کی سمندری حدود آپس میں ملتی ہیں، ایران اپنی حدود میں سیکیورٹی اقدامات کا دعویٰ کرتا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹول وصولی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور معاشی جنگ کے مترادف ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ ایران نے یو این سی ایل او ایس پر دستخط تو کیے ہیں مگر اسے پارلیمنٹ سے باقاعدہ منظور نہیں کیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ جاری رہی تو دنیا کو دہائیوں کے بدترین توانائی بحران اور ممکنہ عالمی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ سلطان الجابر نے اس صورتِ حال کو ‘معاشی دہشت گردی’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کا اثر دنیا بھر میں ایندھن، خوراک اور ادویات کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کو خلیجِ فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل کا سب سے اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…