اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

یہ فتنہ فیملی ہے، رجب بٹ کے راز کھولے تو کہیں منہ نہیں دکھا سکے گا، ذوالقرنین سکندر

datetime 25  مارچ‬‮  2026 |

لاہور( این این آئی)معروف یوٹیوبر اور ٹک ٹاکر ذوالقرنین سکندر نے متنازعہ ٹک ٹاکررجب بٹ پر تنقید کرتے ہوئے انہیں فتنہ قرار دیا ہے۔

ذوالقرنین سکندر نے اپنے حالیہ وی لاگ میں کہا کہ رجب بٹ نے انہیں مجبور کیا کہ وہ سچ بولیں۔ یہ ذاتی نہیں بلکہ پوری قوم کی لڑائی ہے ،رجب بٹ نے خواتین کے بارے میں نامناسب بیانات دئیے ہیں کہ میں ٹھڈے ماروں گا۔ یہ رجب فیملی نہیں بلکہ فتنہ فیملی ہے۔ پیسے سے عزت نہیں خریدی جا سکتی، آپ تاقیامت گالیاں کھائیں گے۔ذوالقرنین سکندر نے مزید واضح کیا کہ رجب بٹ نے دعوی کیا کہ وہ مہینوں سے انہیں نظر انداز کر رہا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ ان کی طرف سے تھا کیونکہ انہیں احساس ہو گیا تھا کہ رجب بٹ پیسوں کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ رجب کی اوقات یہ ہے کہ اس نے ہمیں 2021 میں میسج کیا تھا اور ہم نے اس کا میسج 2023 میں دیکھا تھا یہ اس کی اوقات ہے۔ جب کنول نے اس کو اپنے پوڈ کاسٹ میں بلایا تو میں نے اس کو بہت کچھ سکھایا اور اب یہ کہہ رہا ہے میں کسی سپورٹ سے نہیں آیا ،میں نے اپنے دم پر یہ فیملی کھڑی کی ہے، تم میں اتنا دم ہی نہیں تھا کہ تم ہمیں مل بھی سکتے، تم صفر تھیںجن لوگوں کو اس نے اب گالیاں دی ہیں ان لوگوں سے اس کو ملوانے والے ہم تھے۔انہوں نے رجب بٹ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی بیوی کے بارے میں کہا کہ میں نے کولیب کر کے شادی کرائی ہے ،ان کے پاس پیسے نہیں تھے لیکن تمہاری تو اپنی شادی کرانے کی بھی اوقات نہیں تھی، آپ کے نکاح کا میک اپ، شادی کے کپڑے ہم نے کولیب میں دلوائے تھے اور اس کے علاوہ 16 لاکھ روپے بھی دلوائے تھے، جس کو ابھی تک یہی اندازہ نہیں ہوا کہ ان کی کاسٹ کیا ہے وہی ایسی باتیں کر سکتا ہے۔یہ بدمعاشیوں کا کلچر دکھا کر اور اپنے گھر کی خواتین کی بے عزتی کر کے بتانا چاہ رہا ہے کہ مرد اس طرح کا ہوتا ہے لیکن مرد وہ ہوتا ہے جو اپنے بیوی، بچوں، والدین، بہن بھائیوں اور دوستوں کی عزت کرتا ہے نا کہ ان کے ساتھ بنے تماشوں کو سوشل میڈیا پر دکھاتا ہے۔

آپ کے دوست ہی کہتے ہیں کہ یہ ہمیں اس لیے وی لاگ نہیں کرنے دیتا کہ اگر ہم نے وی لاگ کیا تو اس کے ویوز کم ہو جائیں گے۔ یہ ہمیں غلام بنا کر رکھنا چاہتا ہے۔یوٹیوبر نے مزید کہا کہ مجھے بہت سے لوگوں نے کہا کہ رجب نے اپنی بیوی کی عزت نہیں کی تو یہ آپ کی کہاں عزت کرے گا لیکن اس فتنے کو اتنا علم نہیں ہے کہ جو لوگ آپ کو لا سکتے ہیں وہ آپ کی فتنہ فیملی کو ختم کرنے کیے ایک نئی جنگ کا آغاز بھی کر سکتے ہیں۔رجب کو صرف پیسے کی لالچ ہے اور یہ پیسے کے لیے کسی کو بھی بیچ سکتا ہے اس کا اندازہ میں نے اسی وقت لگا لیا تھا جب اس کی پہلی فائٹ ہوئی تھی۔ اس نے کہا تھا پچاس لاکھ بہت بڑی رقم ہے میں نے گھر بنانا ہے چاہے لوگوں کے خون سے بنائوں۔ میں کرایوں کے گھر میں رہ رہ کر تھک گیا ہوں۔ تب میں نے اس پر لعنت بھیجی اور کہا تھا کہ اگر تمہیں کوئی پیسے دے تو تم اپنے کپڑے بھی اتار دو گے۔انہوں نے مزید کہا کہ رجب کے پہلے گھر کا فرنیچر بھی میں نے اس کو دلوایا تھا اور جب اس کا دوسرا گھر بنا تو یہ دوبارہ گیا لیکن بندے نے میرے بغیر فرنیچر دینے سے انکار کر دیا۔ ذوالقرنین نے کہا جس فرنیچر پر تم سو رہے ہو وہ بھی میں نے دلوایا تھا اگر آپ بھول گئے ہیں تو سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوا لوں گا۔

ذوالقرنین نے رجب بٹ کو فتنہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کبھی مذہب کی توہین کرتا ہے اور کبھی شیعہ سنی اختلاف پیدا کرتا ہے۔ کیا سب برے ہیں اور صرف یہ اکیلا اچھا ہے؟ یہ شخص ایسا فتنہ ہے کہ جس کے ساتھ بیٹھتا ہے اسی کو کاٹتا ہے۔ذوالقرنین نے رجب بٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن اٹھا کر گواہی دینا اگر ان میں سے میں کوئی بھی بات میں جھوٹ بول رہا ہوں۔ انسان کو اپنی اوقات نہیں بھولنی چاہیے۔ حضرت علی نے کہا تھا جس کے ساتھ نیکی کرو اس کے شر سے بچو اور یہ وہ منافق شخص ہے جو ہر نیکی کرنے والے کے ساتھ زیادتی کرتا ہے، ان کی عزتوں کو پامال کرتا ہے اور اپنے آپ کو بڑا دکھانے کے لیے دوسروں کو چھوٹا دکھاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…