ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

آئندہ اے ٹی ایم میں آنکھوں کی پتلی کو پن کوڈطور پر استعمال کیا جائےگا

datetime 28  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) انفارمیشن ٹیلی کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے بل پر بینکاری اور ادائیگی نظام میں ایک اورانقلاب دستک دے رہا ہے جو پلاسٹک منی کے تصور کو ختم کردے گا اور لین دین پلک جھپکتے ہوگا، اے ٹی ایم سے رقوم نکلوانے کے لیے کارڈ کے بجائے آنکھوں کی پتلی کو بطور شناخت اور پن کوڈ استعمال کیا جائے گا۔برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کے لیے امریکا کے سٹی گروپ نے آزمائشی جانچ شروع کردی ہے تاہم ٹیکنالوجی صارفین کے لیے عام کرنے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی، انسانی آنکھ کے پردہ چشم (ریٹینا) کے ذریعے ٹرانزیکشن عام طریقے کے مقابلے میں دگنا کم وقت میں مکمل ہوگا۔عام ٹرانزیکشن 45 سیکنڈز میں مکمل ہوتا ہے جبکہ ریٹینا کے ذریعے ٹرانزیکشن 15سیکنڈ میں مکمل کرلیا جائے گا، اس نادر ٹیکنالوجی پر امریکا کے سٹی گروپ نے کام شروع کردیا ہے اور اس ٹیکنالوجی سے آراستہ کیش مشینیں بنانے والی کمپنی Dieboldکے ساتھ مل کر نیویارک میں واقع کمپنی کے صدر دفتر میں سٹی گروپ کے 30 صارفین پر آزمائشی تجربے کیے جاچکے ہیں۔اس کے علاوہ جے پی مورگن چیس اور بینک آف امریکا بھی اسی سے ملتی جلتی ٹیکنالوجی پر کام کررہا ہے، آنکھ کی پتلی کو بطور پن کوڈ استعمال کرکے اے ٹی ایم آپریٹ کرنے کے اس جدید طریقے میں موبائل فون ایپلی کیشن بھی استعمال ہوگی، رقوم نکلوانے کے لیے آنکھ کی پتلی سے شناخت کرانے کے بعد مطلوبہ رقم موبائل فون کی مخصوص ایپلی کیشن کے ذریعے درج کی جائے گی۔ماہرین کے مطابق نئی ٹیکنالوجی بینکاری اور پیمنٹ سسٹم کے منظرنامے کو یکسر تبدیل کردے گی، اے ٹی ایم سے رقوم نکلوانا محفوظ ہوجائے گا، پن کوڈ کی چوری کے ذریعے ہونے والے فراڈ اور دھوکہ دہی کی وارداتوں کا راستہ بند ہو سکے گا، ساتھ ہی اے ٹی ایم میں کارڈ پھنسنے، کارڈ کے اجرا، تجدید اور اس کی حفاظت کا مسئلہ بھی ہمیشہ کے لیے حل ہوجائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…