ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

کیسینی زحل کے روشن سفید چاند کے پاس سے گزرنے کے لیے تیار

datetime 28  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی تحقیقی خلائی گاڑی کیسینی نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے روشن سفید چاند انسیلاڈس کے پاس سے گزرنے کے لیے تیار ہے۔
ناسا کی خلائی گاڑی کیسینی اپنی حتمی کوشش میں زحل کے چاند کی سطح سے 50 کلو میٹر کے فاصلے سے گزرے گی تاکہ اس کے جنوبی قطب سے نکلنے والے پانی کے کیمائی اجزا کا مزہ لے سکے۔
زحل کے چاند کی ’الوداعی‘ تصاویرانسیلاڈس پر بہت سی اہم دریافت ہوئی ہیں جس سے اس بات کے بہت امکانات ہیں کہ اگر زمین کے باہر کہیں زندگی ہو سکتی ہے تو وہ وہاں ہو سکتی ہے۔

6

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زحل کے چاند کی برفیلی تہہ کے نیچے ایک سمندر بھی ہے۔اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس اجرام فلکی پر جو پانی ہے وہ مائیکرو آرگینزم کے نشونما کے لیے کافی ہے۔کیسینی پروگرام کے سائنسداں کرٹ نییبر نے پیر کو ایک میڈیا بریفنگ میں کہا: ’انسیلاڈس صرف سمندر کی دنیا نہیں ہے یہ ایک ایسا جہان ہے جہاں زندگی کے لیے ماحول اور رہائش ہو سکتی ہے۔‘ناسا کی خلائی گاڑی کیسینی بدھ کو زحل کے چاند کے انتہائی قریب سے گزرے گیانھوں نے مزید کہا: ’بدھ کو ہم جنوبی قطب میں نکلنے والی اس کی شاندار قلغی سے انتہائی قریب ہوں اور ہم لوگ زمین کے علاوہ کسی دوسری دنیا کے سمندر پانی کا بہترین نمونہ حاصل کریں گے۔‘کیسینی بدھ کو زحل کے چاند کے پاس سے گزرتے ہوئے مولیکیولر ہائیڈروجن اکٹھی کرنے کی کوشش کرے گی جس سے یہ پتہ چلے گا کہ سمندر کی سنگلاخ تہہ میں گرم سوراخ بھی ہیں۔اگر ایسا ہوا تو یہ زحل کے چاند پر زندگی کے آثار کے لیے مزید حوصلہ افزا بات ہوگی۔ اس قسم کے گرم سوراخ کا نظام زمین پر موجود ہے جو سمندر کی گہرائی کے ماحولیاتی نظام کو توانائی اور غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ایسے مقامات پر پانی کو چٹانوں کی تہوں میں کھینچ لیا جاتا ہے وہ گرم ہوتا ہے اور اوپر آنے سے پہلے معدنیات کو سیراب کرتا ہے۔ایسے ماحول میں بیکٹریا جنم لیتے ہیں اور خوراک کا ایک ایسا جال تیار کرتے ہیں جس پر مزید پیچیدہ آرگینزم منحصر کرتے ہیں۔کیا اس قسم کی کوئی چیز انسیلاڈس پر وقوع پزیر ہو رہی ہے یہ ابھی محض ایک قیاس ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…