اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ایران نے بھی ردعمل میں تل ابیب اور بعض امریکی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جس کے باعث خلیجی ممالک میں فضائی آپریشن متاثر ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں اور بین الاقوامی و مقامی پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔
ایوی ایشن سیکٹر بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہوا ہے۔ وِز ایئر نے اسرائیل، دبئی، ابوظبی اور عمان کے لیے اپنی تمام پروازیں 7 مارچ تک روک دی ہیں، جبکہ لوفتھانسا نے دبئی، تل ابیب، بیروت اور مسقط کے لیے ہفتہ اور اتوار کی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ اسی طرح کے ایل ایم نے ایمسٹرڈیم سے تل ابیب جانے والی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ عمان ایئر نے بغداد کے لیے سروس عارضی طور پر بند کر دی ہے۔
روس نے ایران اور اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں، جبکہ کویت نے ایران جانے والی پروازیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دی ہیں۔ عراق نے بھی تمام داخلی و خارجی پروازیں منسوخ کرتے ہوئے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ اسرائیل نے بھی شہری ہوائی آپریشن معطل کر کے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی سکیورٹی خطرات اور ایران کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے پیش نظر کی گئی ہے۔ خطے میں جاری صورتحال کے باعث فضائی سفر اور علاقائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔



















































