جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

آپریشن غضب للحق میں 274 طالبان رجیم کے اہلکارو خوارج ہلاک ،400 سے زائد زخمی

datetime 27  فروری‬‮  2026 |

راولپنڈی (این این آئی)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاہے کہ آپریشن غضب للحق میں 274 طالبان رجیم کے اہلکار، خوارج ہلاک اور 400 سے زائد زخمی کردیے گئے،

طالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ اور 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں،دشمن کے 115 ٹینک، بکتربند گاڑیاں تباہ اور اے پی سیز کی جاچکی ہیں،آپریشن میں پاکستانی فوج کے 12 سپوت شہید اور 27 زخمی ہوئے،قوم کو اپنے جوانوں پر فخر ہے،دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کو ایسا جواب دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے،افغان طالبان بے شرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں،کیا افغان طالبان نے اپنے معاہدے کی پاسداری کی؟،پاکستان میں دہشتگردی کے ہر واقعے میں بھارت ملوث ہے، افغان طالبان رجیم اور دہشتگردوں میں کوئی فرق نہیں،ہمارا مؤثر جواب مسلح افواج کے مکمل چوکس ہونے کا مظہر ہے، بنیان المرصوص کی طرح گزشتہ رات بھی پوری قوم پاک افواج کیساتھ کھڑی تھی،دنیا سمجھتی ہے پاکستان کا آپریشن غضب للحق عوام کے تحفظ کیلئے ہے، سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے،آپریشن غضب للحق مقاصد کی تکمیل تک جاری رہے گا۔

جمعہ کو ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری پریس بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دشمن کے 115 ٹینک، بکتربند گاڑیاں تباہ اور اے پی سیز کی جاچکی ہیں۔ فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج کے 22 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ ان ٹارگٹس میں افغان کے کور ہیڈکوارٹرز، بٹالین ہیڈکوارٹرز، دہشتگردوں کی پناہ گاہیں شامل تھیں، افغان فوسز اور خوارج اپنی لاشیں تک چھوڑ کے بھاگے،دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کو ایسا جواب دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے۔انہوںنے کہاکہ آپریشن میں اب تک پاکستانی فوج کے 12 سپوت شہید اور 27 زخمی ہوئے۔

قوم کو اپنے جوانوں پر فخر ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 21 اور 22 فروری کی شب پاکستانی افواج نے بارڈر کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان طالبان رجیم نے اسے بنیاد بناکر سوکالڈ ایکشن کیا۔ پاک افغان بارڈر پر 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، تمام 53 مقامات پر حملوں کو پسپا کیا گیا۔ پاکستان نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ دنیا نے دیکھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مؤثر جواب مسلح افواج کے مکمل چوکس ہونے کا مظہر ہے، بنیان المرصوص کی طرح گزشتہ رات بھی پوری قوم پاک افواج کیساتھ کھڑی تھی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان اپنے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بے شرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں، افغان طالبان کہہ رہے ہیں کہ وہ دہشتگردی کی صورت میں جواب دیں گے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ انداز میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، ایبٹ آباد، نوشہرہ میں ڈرون حملوں کو ناکام بنادیا گیا، ہمارا گزشتہ روز آپریشن اپنے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ میں تھا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سرپرستی کررہی ہے، پاکستان میں اگر کسی جگہ دہشت گردی، خودکش حملہ ہوا تو جواب ناصرف دہشتگردوں بلکہ ان کاتحفظ کرنیوالوں کو بھی دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں یا پاکستان میں سے کسی ایک کو چننا ہے، ہماری چوائس واضح ہے، ہم اپنی چوائس کیلئے قربانی دینے سے کبھی نہیں جھجکیں گے، پاکستان کی افواج مشرقی اور مغربی بارڈر پر ہر دم تیار ہیں، کسی کو شوق پورا کرنے ہے تو آزمالے، پاکستان کے مفادات کا تحفط ہر قیمت پر کیا جارہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے ہی دوحہ معاہدہ کیا تھا، افغان طالبان نے کہا تھا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، کیا افغان طالبان نے اپنے معاہدے کی پاسداری کی؟۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات جو ہم نے آپریشن کیا وہ اپنے حق کے تحفظ کیلئے تھا، تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کو کوئی جگہ نہیں دی جاسکتی، نیشنل ایکشن پلان 2014 میں بنا تھا جسے ہم وژن عزم استحکام کہتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے ہر واقعے میں بھارت ملوث ہے، افغان طالبان رجیم اور دہشتگردوں میں کوئی فرق نہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر آپریشن غضب الحق جاری ہے، دنیا سمجھتی ہے پاکستان کا آپریشن غضب للحق عوام کے تحفظ کیلئے ہے، سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے، آپریشن غضب للحق اپنے مقاصد کی تکمیل تک جاری رہے گا۔ خیبر پختونخوا کی پولیس کو سلام پیش کرتے ہیں، ہمیں ان پر فخر ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان افغان رجیم پر کئی بار یہ واضح کرچکا ہے کہ دہشت گرد یا پاکستان، کسی ایک کا انتخاب کرلیں، افغان رجیم نے ہی دوحا میں مذاکرات کیے، کچھ وعدے کیے کہ یہاں نمائندگی پر مبنی حکومت بنے گی ، خواتین کا احترام کیا جائے گا اسی طرح انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ افغان زمین دہشت گردوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگی مگر اس پر عمل نہیں کیا گیا اور دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…