اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

تعلیمی اداروں سے متعلق بڑا حکومتی فیصلہ،سخت وارننگ جاری

datetime 26  فروری‬‮  2026 |
Summer Vacations in Punjab

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)  وفاقی دارالحکومت میں بچوں پر جسمانی سزا کے مکمل خاتمے کے لیے قانون کو مزید سخت بنا دیا گیا ہے۔

نئی ترامیم کے بعد سرکاری و نجی اسکولوں، دینی مدارس، بورڈنگ ہاؤسز، فوسٹر کیئر مراکز، کام کی جگہوں اور بحالی اداروں میں بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی جسمانی یا ذہنی زیادتی کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔Islamabad Capital Territory Prohibition of Corporal Punishment Act 2021 میں منظور شدہ تبدیلیوں کے تحت بچوں کو دھمکانے یا ہراساں کرنے پر زیادہ سے زیادہ دو سال قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ اگر کسی بچے کو مارا پیٹا جائے یا اسے جسمانی نقصان پہنچایا جائے تو ایک سال تک قید یا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ شدید چوٹ یا ہڈی ٹوٹنے کی صورت میں سزا کا تعین زخم کی نوعیت کے مطابق ہوگا۔قانون کے مطابق کسی استاد یا مدرسے کے عملے کی جانب سے بغیر قانونی جواز بچے پر ہاتھ اٹھانا جرم ہوگا، جس پر تین ماہ تک قید، 500 روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ہاتھ، ڈنڈے، بیلٹ، جوتے، لکڑی کے چمچ یا کسی بھی آلے سے مارنا قابلِ تعزیر عمل قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح تھپڑ رسید کرنا، کوڑے لگانا، لات مارنا، جھنجھوڑنا، دھکا دینا، نوچنا، چٹکی کاٹنا یا بال اور کان کھینچنا بھی جسمانی سزا کے زمرے میں آئے گا۔طلبہ پر تشدد سے متعلق شکایات کی جانچ کے لیے وزارتِ تعلیم کی جانب سے تین رکنی کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں کم از کم ایک خاتون رکن کی شمولیت لازمی ہوگی۔ دینی مدارس کے معاملات متعلقہ وفاقی تنظیمِ مدارس کی مقررہ کمیٹی دیکھے گی، جبکہ دیگر نجی اداروں سے متعلق کیسز کی نگرانی وزارتِ انسانی حقوق کرے گی۔حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی اور تربیتی ماحول یقینی بنانا اور ہر قسم کے تشدد کا خاتمہ کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…