چوہے کھانا بند کریں
ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا اور عرض کیا ’’میں بڑا آدمی بننا چاہتا ہوں‘
میں کیسے بن سکتا ہوں؟‘‘ مہاتما بودھ مسکرایا اور بولا ’’تم اپنے اندر موجود چھوٹے آدمیوں کو باہر نکال دو‘ تم بڑے بن جائو گے‘‘ شہزادے نے اس کے بعد کیا کہا اور کیا کیا یہ لمبی کہانی ہے لیکن جہاں تک بودھ کے فارمولے کی بات ہے‘ یہ بظاہر سادہ لیکن عملاً بہت مشکل ہے‘ ہم سب کے اندر کئی چھوٹے چھوٹے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں‘ یہ چھوٹے لوگ ہمیں پوری زندگی بڑا نہیں بننے دیتے‘ یہ ہمیں موت تک آگے نہیں بڑھنے دیتے۔
حیوانات کے ماہرین کادعویٰ ہے زمین پر ایک ایسا وقت بھی گزراتھا جب سارے شیراور چیتے بلیاں تھے‘ یہ سائز میں فٹ تک ہوتے تھے‘ منہ سے میائوں کی آوازیں نکالتے تھے‘ گھروں اور آبادیوں کے قریب رہتے تھے‘ دودھ پیتے تھے اور بھیڑیوں کی خوراک بن جاتے تھے لیکن پھر ان میں سے چند گروہوں نے چوہے کھانا بند کر دیے اور یہ بڑے جانور شکار کرنے لگے‘ اس کے ساتھ ہی ان کا سائز اور عادات تبدیل ہونے لگیں‘ یہ اس کے بعد میائوں کی جگہ دھاڑنے لگے ‘ ان کے دانت اور پنجے بڑے اور مضبوط ہوگئے اور ان کی سپیڈ بڑھ گئی ‘ یہ بے خوف بھی ہو گئے اور انہوں نے اب تمام جانور حتیٰ کہ انسانوں سے بھی گھبرانا بند کر دیا اور یہ تمام تبدیلیاں صرف ایک تبدیلی سے آئیں‘ انہوں نے چوہے کھانے بند کر دیے تھے یعنی انہوں نے اپنے اندر کی چھوٹی بلی مار دی اور اس کے ساتھ ہی ہر چیز تبدیل ہو گئی‘ بلیوں میں آخری تبدیلی آسٹریلیا میں آئی تھی‘ آسٹریلیا میں 1788ء تک بلیاں نہیں ہوتی تھیں‘ انگریز انہیں آسٹریلیا لے کر آئے‘ ان میں سے کچھ گھروں تک محدود ہو کر رہ گئیں‘ یہ شریف بلیاں ہیں‘
یہ دودھ پیتی ہیں‘ کیٹ فوڈ کھاتی ہیں‘ میائوں میائوں کرتی ہیں اور گھروں کے صوفے خراب کرتی ہیں جب کہ اسی نسل (Feral Cats) کی بعض بلیاں جنگلوں میں نکل گئیں اور صرف ڈیڑھ سو سال میں ان کا سائز اور وزن بڑھ گیا‘ یہ اب پندرہ سے بیس کلو وزنی ہیں اور اپنے سے کئی گنا بڑے جانوروں کو شکار کرتی ہیں‘ ماہرین کا خیال ہے یہ اگلی چند دہائیوں میں چیتا یا شیر بن جائیں گی‘ سوال یہ ہے فیرل کیٹ کی ایک نسل سارا دن کھڑکی یا صوفے پر لیٹی اور میائوں میائوں کرتی رہتی
ہے‘ اس کا وزن کلو سے دو کلوگرام تک رہتا ہے اور پوری زندگی انسانوں کے تلوے چاٹتی رہتی ہے جب کہ اسی نسل کی دوسری بلی کا وزن 15 سے 20 کلو گرام ہے‘ یہ سائز میں چیتے کے جوان بچے جتنی ہوتی ہے‘ جنگل میں رہتی ہے اور جانور اس سے ڈرتے ہیں‘ ان دونوں میں فرق کیوں ہے؟دوسرا سوال ان دونوں کے فرق کو زیادہ عرصہ بھی نہیں گزرا‘ یہ دونوں 1788ء میں آسٹریلیا آئی تھیں لیکن ڈیڑھ سو برس میں ایک بلی پالتو بن گئی اور دوسری شکاری‘ کیوں؟‘ حیوانات کے ماہرین کا خیال ہے جنگلی بلی نے چوہے کھانے کی بجائے بڑے جانور شکار کرنا شروع کر دیا تھا اور بڑے جانور مارنے کے لیے ظاہر ہے آپ کا سائز بھی بڑا ہونا چاہیے یوں یہ بلیاں تیزی سے بڑی‘ وزنی اور مضبوط ہوتی چلی گئیں جب کہ دوسری طرف گھریلو بلی نے خود کو کیٹ فوڈ‘ چوہوں اور آرام دہ ماحول تک محدود کر لیا تھا یوں یہ چھوٹی‘ بزدل اور ہلکی رہ گئی لہٰذا آسٹریلین بلیاں یہ سبق دیتی ہیں بلی اگر آج بھی اپنے اندر کی بلی مار دے‘ یہ اگر آج بھی چوہے کھانا بند کر دے تو یہ چیتا یا شیر بن سکتی ہے جب کہ ہم بلیوں سے ہزار درجے بہتر ہیں‘ ہم اشرف المخلوقات ہیں‘ ہم خدا تک سے ہم کلام ہو سکتے ہیں چناں چہ ذرا سوچیے ہم اگر اپنے اندر کے چھوٹے انسان کو ماردیں یا باہر نکال دیں تو ہم کیا کیا نہیں کر سکتے‘ ہم کیا سے کیا نہیں بن سکتے؟۔
دنیا کے تمام بڑے انسان ہم جیسے انسان ہوتے ہیں‘ ہم شکل‘ وجود‘ اعضائ‘ خوراک‘ خوف اور تحریک سب میں برابر ہوتے ہیں‘ ہم سب کو سردی میں دھوپ اور گرمی میں سایہ اچھا لگتا ہے‘ ہم سب کو کھانے کی خوشبو بے بس کر دیتی ہے‘ ہم سب خوب صورتی سے مبہوت ہو جاتے ہیں‘ ہم سب زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور ہم سب موت سے ڈرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم میں سے بعض آگے بڑھ جاتے ہیں اور بعض پیچھے رہ جاتے ہیں‘ہم میں سے بعض کام یاب ہو جاتے ہیں اور بعض خود کو ناکام سمجھتے ہیں اور بعض کا اخلاقی قدکاٹھ بلند ہو جاتا ہے اور بعض ننگ انسانیت بن کر رہ جاتے ہیں‘ کیوں؟ آخر کیوں؟ اس کی واحد وجہ ہمارے اندر موجود چھوٹے‘ بے ایمان‘ دھوکے باز اور بے اصول انسان ہیں‘ یہ چھوٹے لوگ جب تک ہمارے اندر موجود رہتے ہیں‘ ہم اس وقت تک بڑے یا کام یاب نہیں بن سکتے‘آپ نیلسن مینڈیلا کی مثال لیجیے‘ یہ ہمارے دور کے لیجنڈ تھے‘ انگریزوں نے اس شخص کو 27 سال جیل میں رکھا‘ یہ صدر بنا اور کمال کر دیا‘ نیلسن مینڈیلا نے یہ کمال کیسے کیا؟ آپ ایک مثال ملاحظہ کیجیے‘ یہ صدر کی حیثیت سے ایک بار کیپ ٹائون سے جوہانس برگ جا رہا تھا‘ یہ راستے میں لنچ کے لیے ریسٹ ایریا میں رکااور اپنے سٹاف کے ساتھ لنچ کرنے لگا۔ اچانک اس کی نظر کونے میں بیٹھے ایک انگریز پر پڑی‘ وہ بھی لنچ کر رہا تھا لیکن وہ شاید اپنے گورے رنگ کی وجہ سے پریشان تھا‘ گورے اس زمانے میں خود کو غیرمحفوظ محسوس کرتے تھے اور کالوں کو دیکھ کر گھبرا جاتے تھے‘
وہ بھی صدر کے سیکورٹی گارڈز کو دیکھ کر گھبرا رہا تھا‘ نیلسن مینڈیلا اپنی جگہ سے اٹھا‘ اس کی میز پر گیا‘ اس سے ہاتھ ملایا اور اس کے ساتھ بیٹھ کر لنچ کرنے لگا‘وہ دونوں اس کے بعد کھل کر گپ شپ کرنے لگے‘ نیلسن مینڈیلا نے آخر میں اسے گلے لگایا‘ سلیوٹ کیا اور رخصت ہو گیا‘ انگریز کی آنکھوں میں اس وقت آنسو تھے‘ مینڈیلا کے سیکرٹری نے صدارتی کار میں اس کی وسعت قلبی کی تعریف کی اورکہا‘ وہ شخص شروع میں آپ سے گھبرا رہا تھا لیکن آپ نے اس کی میز پر جا کر اس کا سارا خوف ختم کر دیا‘ نیلسن مینڈیلا مسکرایا اور پھر بولا ’’یہ شخص میرے لیے نیا نہیں ہے‘ میں اسے پرانا جانتا ہوں‘‘سیکرٹری نے حیرت سے پوچھا ’’کیسے؟‘‘ نیلسن مینڈیلا نے جواب دیا ’’ یہ روبن آئی لینڈ میں میری جیل کے سیل کا انچارج تھا‘‘مینڈیلا نے اس کے بعد لمبی سانس لی اور پھر بتایا’’ مجھے ایک رات شدید بخار تھا‘مجھے بے تہاشا پیاس لگی تھی‘ میں اس عالم میں سیل کی سلاخیں بجانے لگا‘ یہ آیا تو میں نے اس سے پانی مانگا لیکن اس نے جواب میں میرے منہ پر پیشاب کر دیا ‘ یہ آج دس برس بعد مجھے دیکھ کر گھبرا گیا تھا‘ میں نے اسے پہچان لیا اور میں اسے صرف یہ بتانے کے لیے اس کی میز پر گیا کہ ماضی‘ ماضی ہو چکا ہے‘ وہ ختم ہوگیا ہے تم بھی میرے ساتھ آگے کی طرف موو کرو‘ میں نے اس کے بعد اس کے ساتھ جیل کی اچھی یادیں تازہ کیں‘ ہم وہاں والی بال کھیلتے تھے‘ گانے گاتے تھے اور میں نے وہاں بوگن بیل بھی لگائی تھی‘ وہ آج بھی موجود ہے‘ ہم دونوں نے یہ سب یاد کیا اور مزے سے لنچ کیا‘‘ نیلسن مینڈیلا یہ بتانے کے بعد مزے سے اخبار پڑھنے لگا جب کہ ڈرائیور اور سیکرٹری اپنی آنکھیں پونچھنے میں مصروف ہوگئے۔
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے نیلسن مینڈیلا نے 27 سال کی جیل کے بعد اپنے اندر کے انتقامی انسان کو باہر نکال دیا تھا چناں چہ اسے منہ پر پیشاب کرنے والے جیلر کو دیکھ کر بھی غصہ نہیں آیا‘ مہاتما گاندھی دوسری مثال ہے‘ گاندھی جی کو 30جنوری 1948ء کونتھورام گوڈسے نے گولی مار کر قتل کر دیا‘ یہ موت کے وقت بھی بھرت (روزے) سے تھے اور انہوں نے یہ بھرت ’’پاکستان کے اثاثے پاکستان کے حوالے کرو‘‘ کے لیے رکھا تھا‘ پنڈت جواہر لال نہرو وزیراعظم بننے کے بعد پاکستان کا حصہ دبا کر بیٹھ گئے تھے‘ مہاتما گاندھی اس کے خلاف تھے‘ ان کا کہنا تھا اثاثوں کی کمی کی وجہ سے پاکستان کے شہری مشکلات کا شکار ہیں‘ ہمیں ان کا حصہ فوری طور پرادا کر دینا چاہیے لیکن نہرو نہیں مان رہے تھے چناں چہ مہاتما گاندھی نے برلا ہائوس میں بھوک ہڑتال کر دی اور اس عالم میں نتھورام گوڈسے کی گولی کا نشانہ بن گئے‘ یہ مثال ثابت کرتی ہے مہاتما گاندھی نے بھی اپنے اندر سے ناانصافی کا گاندھی نکال دیا تھا چناں چہ وہ اس پاکستان کے حقوق کے لیے مارا گیا جس کی تخلیق کے یہ خلاف تھا‘ قائداعظم محمد علی جناح کے لاہور کے گھر پر برطانوی فوج قابض تھی‘ یہ گھر قائداعظم نے 1943ء میں ہندوبزنس مین موہن لال بھاسن سے خریدا تھا لیکن انہیں اس کا قبضہ نہیں ملا تھا (یہ بعدازاں کور کمانڈر ہائوس بنا اور پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اسے 9 مئی 2023ء کو جلا دیا) قائداعظم 1947ء کے بعد گورنر جنرل بن گئے لیکن انہوں نے گھر کے قبضے کے لیے کوئی حکم جاری نہیں کیا‘ ان کا کلیم روٹین کے مطابق عدالت میں چلتا رہا یہاں تک کہ قائد گھر کے قبضے کے بغیر دنیا سے رخصت ہو گئے‘ یہ ثابت کرتا ہے قائداعظم نے اپنے اندر سے حرص‘ لالچ اور اتھارٹی کے ذاتی استعمال کا انسان باہر نکال دیا تھا۔
ہم اس کے بعد اگر دنیا کے کام یاب ترین لوگوں کو دیکھیں تو ہمیں محسوس ہو گا ان لوگوں نے بھی اپنی اپنی ذات سے سست‘ بے اصول‘ بے مروت‘ نالائق اور وقت ضائع کرنے والے انسان نکال دیے تھے چناں چہ یہ دنیا میں ترقی کر گئے‘ آپ بھی اگر کسی دن آرام سے بیٹھ کر سوچیں گے تو آپ کو بھی اپنے اندر بے شمار ایسے چھوٹے انسان ملیں گے جو آپ کی ترقی اور بلند قامتی کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہیں‘آپ یقین کریں یہ چھوٹے انسان آپ کی ترقی کے راستے کی واحد رکاوٹ ہیں‘ یہ آپ کو آگے نہیں بڑھنے دے رہے اور آپ جب تک ان سے جان نہیں چھڑائیں گے آپ اس وقت تک کام یاب نہیں ہو سکیں گے‘ آپ اس وقت تک بڑے نہیں بن سکیں گے چناں چہ آپ اگر بڑا بننا چاہتے ہیں یا کام یاب ہونا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو چوہے کھانا بند کرنا ہوگا‘ آپ کو اپنے اندر کے چھوٹے اور بے اصول لوگ باہر نکالنا ہوںگے‘ آپ یقین کریں آپ بلی سے چیتا اور ناکام سے کام یاب انسان بن جائیں گے ورنہ دوسری صورت میں آپ اسی طرح صوفے گندے کرتے اور حالات کا رونا روتے رہیں گے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
کیا آپ کا نام 13000 روپے حاصل کرنے والی فہرست میں ہے؟ اہلیت چیک کریں
-
بجلی کا بل جمع کرانے کے حوالے سے صارفین کے لیے بڑی خبر
-
غزہ میں کون کون سے مسلم ممالک اپنی فورسز بھیجیں گے؛ صدر ٹرمپ نے بتادیا
-
رمضان المبارک میں ان تنظیموں کو عطیات نہ دیں، اہم ہدایات جاری
-
عمرے پر جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے بڑی خبر
-
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل؛ زندہ بچ جانے والی خاتون نے دل دہلا دینے والی کہانی سنادی
-
عماد وسیم نے بھارت کیخلاف شکست کی ذمہ داری قبول کرلی،ہوشر با انکشافات
-
نادرا: تاریخ پیدائش کی تبدیلی یا تصحیح کروانے والوں کیلیے اہم خبر
-
سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
-
ملک بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بھی اضافہ
-
چوہے کھانا بند کریں
-
لاہور میں کینال روڈ بند کرنے والے نوجوان کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ، ویڈیو سامنے آگئی
-
موبائل فون رکھنے کا الزام؛ بہو کو برہنہ کرکے گرم لوہے کے راڈ اور ڈنڈوں سے تشدد
-
ٹی وی کی آواز کم کرنے پر جھگڑا،بیوی نے طیش میں آ کر چاقو کے وار سے شوہر کو قتل کر دیا





















































