جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بلیوں پر تحقیق سے کینسر کے علاج کی نئی راہیں روشن ہونے کا امکان

datetime 20  فروری‬‮  2026 |

لاہور( این این آئی)ماہرین طب کے مطابق بلیوں میں پائے جانے والے بعض حیاتیاتی نظام اور بیماریوں کے خلاف قدرتی مزاحمت انسانوں میں کینسر کے علاج کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہے،

جدید تحقیق اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ جانوروں اور انسانوں کے مدافعتی اور جینیاتی نظام میں مماثلتیں سائنسی پیش رفت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔بلیوں میں ایک وائرس پایا جاتا ہے جسے Feline Immunodeficiency Virus (FIV) کہا جاتا ہے، جو انسانی ایچ آئی وی سے ملتا جلتا ہے چونکہ دونوں وائرس مدافعتی نظام کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے سائنس دان بلیوں پر ہونے والی تحقیق کے ذریعے قوتِ مدافعت کے ردِعمل کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تحقیق سے امیونوتھراپی کے نئے طریقے دریافت کیے جا سکتے ہیں، جو کینسر کے علاج میں مدافعتی خلیوں کو مضبوط بنانے یا انہیں مخصوص ہدف کے خلاف موثر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بلیوں میں کئی ایسے کینسر قدرتی طور پر پیدا ہوتے ہیں جو انسانوں میں پائے جانے والے کینسر سے کافی مشابہت رکھتے ہیں، مثلا لیمفوما اور چھاتی کا کینسر، چونکہ یہ بیماریاں قدرتی ماحول میں جنم لیتی ہیں، اس لیے نئی ادویات اور تھراپیوں کی آزمائش زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں ممکن ہوتی ہے اور ان کے حقیقی اثرات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق انسان اور بلی کے جینوم میں کئی حیاتیاتی راستے مشترک ہیں، خصوصا سیل گروتھ کنٹرول، ڈی این اے مرمت کے نظام اور ٹیومر کے پھیلا کے عمل میں، یہی مماثلتیں سرطان کے علاج میں نئی حکمت عملیوں کی بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔اسی تناظر میں کمپیریٹو آنکولوجی یا تقابلی سرطان شناسی ایک ابھرتا ہوا شعبہ بن چکا ہے، جس میں جانوروں اور انسانوں میں کینسر کا مشترکہ مطالعہ کیا جاتا ہے تاکہ مثر اور جدید علاج دریافت کیے جا سکیں۔ماہرین کے مطابق مستقبل میں اس شعبے کی پیشرفت کینسر کے خلاف جنگ میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…