بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

’رولنگ پارٹی اپنے صوبے کے لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے‘، پشاور ہائی کورٹ کا آئی جی اور چیف سیکرٹری کو فوری سڑکیں کھلوانے کا حکم

datetime 17  فروری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پشاور ہائی کورٹ نے سڑکوں کی بندش کے معاملے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو راستے کھولنے کا حکم جاری کر دیا۔

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ چار دن سے سڑکیں بند ہونے کے باعث عوام شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ لوگوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت کو اپنے ہی صوبے کے شہریوں کو تکلیف نہیں دینی چاہیے اور فوری طور پر رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پشاور سے باہر جانا مشکل ہو چکا ہے۔ جسٹس اعجاز انور نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ان کے اپنے بچوں کو بھی راستے بند ہونے کی وجہ سے واپس لوٹنا پڑا۔ انہوں نے حکام کو یاد دلایا کہ صوبہ پہلے ہی سکیورٹی مسائل کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے شہریوں پر مزید دباؤ ڈالنا مناسب نہیں۔دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ ارکان صوبائی اسمبلی اسلام آباد گئے ہیں تاکہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے اور حکومت کسی غلط اقدام کا دفاع نہیں کر رہی۔

اس پر عدالت نے کہا کہ بطور لاء افسر احتجاجی مؤقف کی حمایت مناسب نہیں، انہیں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر شہریوں کے مفاد کو دیکھنا چاہیے۔آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری نے عدالت سے رپورٹ جمع کرانے کے لیے دو دن کی مہلت مانگی، تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے ہدایت دی کہ آج ہی سڑکیں کھولی جائیں اور خاص طور پر موٹر وے کسی صورت بند نہ ہونے دی جائے۔آخر میں عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ پشاور سمیت کسی علاقے میں سڑکیں بند نہیں ہونی چاہئیں۔ حکام کی جانب سے فوری عملدرآمد کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی کر دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…