بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

محسن نقوی نے عمران خان کے علاج میں تاخیر کا ذمہ دار علیمہ خان کو قرار دیدیا

datetime 17  فروری‬‮  2026 |
محسن نقوی
محسن نقوی

لاہور( این این آئی)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے معاملے پر بھونڈی سیاست کی جا رہی ہے،

علیمہ خان بانی کی بیماری کو کیش کروانا چاہتی تھیں، پی ٹی آئی قیادت بانی کو فراہم علاج معالجہ کی سہولیات سے مطمئن ہے ،ہم چاہتے تھے کہ پی ٹی آئی قیادت کی موجودگی میں بانی پی ٹی آئی کا چیک اپ ہو لیکن وہ نہیں آئے ،رپورٹس آ گئی ہیں، اب تماشہ اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا ڈرامہ اب بند ہونا چاہیے،سڑکیں بند کر کے عوام کو تکلیف پہنچائی گئی،مفاہمت کے قائل ہیں تاہم کسی کو ملک میں انتشار کی ہر گز اجازت نہیں دی جا سکتی، خیبر پختونخوا ہ میں سڑکیں کھولنے کے لیے پشاور ہائیکورٹ کے حکم پرہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا ،پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر محسن نقوی نے کہا کہ جیل میں قید ہر قیدی کو علاج کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ،بانی پی ٹی آئی کو علاج معالجہ کے لئے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں لیکن بدقسمتی سے بانی پی ٹی آئی کی بینائی کے معاملے پر پراپیگنڈا کیا گیا،بانی پی ٹی آئی کے علاج معالجہ کے معاملے پر بھونڈی سیاست کی جا رہی ہے۔ اس معاملے پر سینئر سیاستدان محمود خان اچکزئی کی درخواست سے پہلے ہی حکومت پی ٹی آئی قیادت اور اپوزیشن سے رابطے میں تھی۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اس حوالے سے دونوں طرف سے رابطے میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے ۔ہم نے پی ٹی آئی قیادت کو مکمل یقین دلایا کہ بانی کو علاج معالجہ کی ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ محسن نقوی نے کہا کہ ہم نے علاج کے لیے بہترین ڈاکٹرز کا انتخاب کیا اورسرکاری اور پرائیویٹ ڈاکٹرز نے بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کیا جس پر پی ٹی آئی قیادت نے کہا کہ ہم حکومت کی جانب سے علاج معالجہ سے مطمئن ہیں۔محسن نقوی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو آنکھ کے علاج کے لیے ایک انجکشن لگنا تھا جو ڈاکٹرز کی مدد سے جیل میں بھی لگایا جا سکتا تھا لیکن ہم ان کے علاج میں ہر ممکن سہولیات فراہم کرنا چاہتے تھے جس کے لیے ان کو ہسپتال لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بانی کے معائنے کے لیے پی ٹی آئی رہنمائوں سے سپیشلسٹ کا نام تجویز کرنے کا بھی کہا تھا اور ان کے سینئر رہنما کو بھی اس سلسلے میں دعوت دی ۔ہم چاہتے تھے کہ پی ٹی آئی قیادت کی موجودگی میں بانی پی ٹی آئی کا چیک اپ ہو لیکن وہ نہیں آئے ۔ہمیں کہا گیا کہ بانی کو ایک ہفتے کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے،علیمہ خان بانی کی بیماری کو کیش کروانا چاہتی تھیں وہ ہمیشہ بانی کے علاج معالجہ سے منع کر دیتی تھیں۔ انہوںنے کہا کہ بانی کی صحت پر بلیم گیم کھیلی گئی ،کچھ لوگ بانی کی صحت سے زیادہ اپنی سیاست کے لیے فکر مند ہیں ،اس معاملے کو سیاسی نہیں بنانا چاہیے ،رپورٹس آ گئی ہیں، اب تماشا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا ڈرامہ اب بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت ہی مسائل کا حل ہوتا ہے ،ہمیشہ سے یقین ہے کہ کوئی بھی مسئلہ ہو، بات چیت سے اس کا حل ممکن ہے ۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف ہمیشہ سے سیاسی مفاہمت اور بات چیت کے قائل ہیں،ہم اب بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر بانی پی ٹی آئی کا کوئی میڈیکل ٹیسٹ رہ گیا ہے تو ہمیں بتائیں ، ہم بھرپور تعاون کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے بھرپور تعاون کے باوجود سڑکوں کی بندش کر کے عوام کو تکلیف پہنچائی گئی ۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں اسلام آباد کے ریڈ زون میں کسی کو توڑ پھوڑ اور انتشار کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔خیبر پختونخوا ہ میں سڑکیں کھولنے کے لیے پشاور ہائیکورٹ عدالت کا حکم آ چکا، عدالتی حکم پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا ۔ کسی کو ملک میں انتشار ،احتجاج یا چڑھائی کا شوق ہے تو وہ نتائج کے لیے بھی تیار رہے۔انہوں نے 18 فروری تک رپورٹ مانگی ہے اور چیف سیکرٹری اور آئی جی کو اس حوالے سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا ہ پولیس دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہی ہے،خیبر پختونخوا ہ کی صورتحال سب کے سامنے ہے ، وہاں ہر دن کوئی نہ کوئی واقعہ ہو رہا ہے،پولیس دہشتگردوں کے خلاف قربانیاں دے رہی ہے لیکن جب تک پولیٹکل لیڈرشپ آن بورڈ نہیں ہو گی دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جیتنا مشکل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پر پی ٹی آئی کے ورکرز کو بھی سوچنا چاہیے کہ کون ملک دشمن اور کون ملک کا خیر خواہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر محسن نقوی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ملکی مفادات کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ ملک میں ہونے والی حالیہ دہشتگردی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کے لیے ڈالر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد ملک سے دہشت گردوں کا جڑ سے خاتمہ کریں گے ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…