نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ سا گھرتھا جہاں آسائشیں نہیں تھیں مگر علم کی روشنی ضرور تھی۔
اسی گھر میں ایک بچہ رہتا تھا جس کی عمر دس یا گیارہ برس سے زیادہ نہیں تھی۔ باپ دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔ ماں بیوہ تھی مگر وہ غیر معمولی حوصلے اور بصیرت کی مالک تھی۔ اس بچے کا نام محمد بن اسماعیل تھا ‘وہی نام جو بعد میں تاریخ نے امام محمد بن اسماعیل البخاریؒ کے طور پر محفوظ کر لیا۔امام محمد بن اسماعیلؒ کی بینائی بچپن میں کمزور ہو گئی۔ ماں کے پاس علاج کے وسائل نہیں تھے مگر اس کے پاس ایک ایسی طاقت تھی جسے ہم اکثر نظرانداز کر دیتے ہیںیعنی دعا۔ماں راتوں کو اٹھ کر اپنے یتیم بیٹے کے لیے رورو کر دعا کرتی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے ایک رات ماں نے خواب میں حضرت ابراہیم ؑ کو دیکھا جنہوں نے فرمایا’’اللہ نے تمہاری دعاؤں کے صدقے تمہارے بیٹے کی بینائی لوٹا دی ہے‘‘۔
ماںصبح اٹھی تو واقعی بیٹے کی بینائی واپس آ چکی تھی مگر اصل امتحان ابھی باقی تھااور وہ تھا علم حاصل کرنا۔ محمد بن اسماعیل غیر معمولی ذہانت رکھتا تھا مگر وسائل محدود تھے۔ ایسے میں بخارا‘ بغداد‘ مکہ اور مدینہ کے اہل علم اور اہل خیر نے اس بچے کا ہاتھ تھاما۔ کسی نے کتابیں فراہم کیں‘ کسی نے رہائش دی‘ کسی نے کھانے کا بندوبست کیااور کسی نے اس کی مالی معاونت کی لیکن یہ سب کچھ کرتے ہوئے کسی نے اس بچے سے یہ نہیں پوچھا تم مجھے بدلے میں کیا دو گے؟ سب نے سوچا اگر آج ہم نے اس کا ہاتھ نہ پکڑا تو شاید کل تاریخ ایک عظیم سرمایہ کھو دے اور پھروقت نے وہ منظر دیکھا جو صدیوں میں کبھی کبھار دیکھنے کو ملتا ہے۔وہی یتیم بچہ جو اگر بے سہارا رہ جاتا تو گم نامی میں کھوجاتا وہ’’صحیح البخاری‘‘جیسی کتاب مرتب کر گیا‘وہ کتاب جسے قرآن مجید کے بعد سب سے مستند سمجھا اور پڑھا جاتا ہے۔یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں‘ یہ ایک پیغام ہے اور وہ پیغام یہ ہے کہ ایک بچے کی تعلیم پوری امت کی سمت بدل سکتی ہے۔
رمضان آتا ہے تو ہم عبادات کا حساب شروع کر دیتے ہیں۔کتنے روزے رکھیں؟کتنی تراویح پڑھیں اورکتنی تلاوت کریں؟لیکن شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں رمضان صرف اعمال گننے کامہینہ نہیں‘ یہ دوسروں کے بوجھ بانٹنے کا بھی مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے معاشرے کے سب سے کم زور فرد کے ساتھ ہمارا رویہ ہماری عبادت کا اصل پیمانہ ہے‘پاکستان میں ہر سال ہزاروں بچے یتیم ہوتے ہیں‘ ان میں سے اکثر کے پاس صلاحیت ‘ ذہانت اور آگے بڑھنے کا جذبہ ہوتا ہے مگران کے پاس ایک چیز کی کمی ہوتی ہے اور وہ ہوتا ہے موقع اور موقع وہ نعمت ہے جو خواب کو حقیقت میں بدلتا ہے‘ یتیم بچوں کو اگر موقع مل جائے تو یہ امام بخاریؒ بن جاتے ہیں اوراگر نہ ملے تو یہ گم نامی کے اندھیرے میں فوت ہو جاتے ہیں‘ اب سوال یہ ہے امام بخاریؒ جیسے لوگوں کو آگے بڑھنے کا موقع کون دیتا ہے؟ یہ موقع اکثراوقات اہل خیر کی زکوٰۃ اور صدقات دیتے ہیں۔ہم عموماً زکوٰۃ کو ایک عدد‘ ایک ہندسہ سمجھتے ہیں 2.5 فیصدحالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اڑھائی فیصد کسی بچے کی زندگی کا 100 فیصد بدل سکتا ہے۔
یہ رقم اس کے لیے صرف پیسے نہیں رہتی‘ یہ اس کی کتاب بن جاتی ہے‘ یہ اس کا یونیفارم بن جاتی ہے اور یہ اس کے استاد کی تنخواہ بن جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ اسے یہ احساس دیتی ہے کہ وہ اس معاشرے میں تنہا نہیں اور پورا ملک بلکہ پورا معاشرہ اس کے پیچھے کھڑا ہے۔یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے۔زکوٰۃ تو ہم دے دیتے ہیں مگر کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا ہے یہ کہاں جا رہی ہے؟ کیوں؟ کیوںکہ زکوٰۃ صرف نیکی نہیں‘ ایک امانت بھی ہے اور اگر ہم اپنی زکوٰۃ کی رقم غلط لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیں گے تو پھر ہم خیانت کے مرتکب ہوں گے۔پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والے چند ادارے ایسے ہیں جو اس امانت کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ جو زکوٰۃ کو وقتی ریلیف کی بجائے مستقل حل میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان اداروں میں ایک نام ریڈ فائونڈیشن ہے۔ میں خود اس ادارے کا رضاکار ہوں اور مجھے اس کام پر فخر ہے۔ یہ میری زندگی کا اثاثہ ہے۔ یہ ادارہ کئی دہائیوں سے ملک کے ان پس ماندہ اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی خلاء پر کر رہا ہے جہاں ریاست نہیں پہنچ پاتی۔فاؤنڈیشن اس وقت تک 624 تعلیمی اداروں کا نظام سنبھالے ہوئے ہے ۔ ان اداروں میں ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں جن میں 14ہزار یتیم بچے بھی شامل ہیں۔ ان یتیم بچوں کی تعلیمی کفالت پر سالانہ ایک ارب سے زائد خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔
یہ ادارہ یتیم بچوں کو مکمل تعلیمی کفالت فراہم کرتا ہے ۔گھروں میں راشن‘ اسکول‘ اساتذہ‘ نصاب‘ کتابیں‘ یونیفارم‘ نگرانی اور جواب دہی یہ سب اس ادارے کی نمایاں خوبیاں ہیں‘آپ اگر اس ادارے کے ڈونر ہیں تو آپ جان سکتے ہیں آپ کی زکوٰۃ کہاں خرچ ہو رہی ہے‘ کس بچے کی تعلیم پر لگ رہی ہے اور اس کے کیا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ یہی شفافیت اعتماد کو جنم دیتی ہے اور یہ اعتماد کسی فلاحی نظام کی بنیاد ہوتا ہے۔ اسی لیے بہت سے اہل خیر ریڈ فائونڈیشن کو زکوٰۃ اور صدقات کے لیے ایک قابل اعتماد اور امین ادارہ سمجھتے ہیں۔
یتیم بچوں کی تعلیمی کفالت محض مالی مدد نہیں ہوتی یہ ایک اخلاقی اور انسانی رشتہ بھی ہوتا ہے ۔جب کوئی بچہ یہ جان لیتا ہے دنیا میں کوئی ہے جو اس کے مستقبل کے لیے فکر مند ہے تو اس کے اندر نیا اعتماد پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ خود کو بوجھ نہیں امکان سمجھنے لگتا ہے اوریہ احساس اسے محنت‘ صبر اور کام یابی کی طرف لے جاتا ہے۔ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں وسائل محدود مگر صلاحیتیں بے شمار ہیں‘ ہم نے اگر ان صلاحیتوں کو ضائع ہونے دیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ امام بخاریؒ جیسے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں یتیمی کم زوری نہیںہوتی بشرطیکہ معاشرہ اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ریڈفاؤنڈیشن کے تعلیمی اداروں میں اس وقت 14ہزار سے زائد یتیم بچے آپ کے دست شفقت کے منتظر ہیں۔ ایک بچے کی تعلیمی کفالت 60ہزار روپے سے کی جا سکتی ہے۔ اللہ نے اگر آپ کو توفیق دے رکھی ہے تو آپ ایک سے زائد بچوں کی کفالت کا ذمہ لے لیں۔ فاؤنڈیشن آپ کو آپ کے زیر کفالت بچوں کی مکمل تفصیل مہیا کرے گی اور ہر سال ان کی پراگریس رپورٹ سے بھی آگاہ رکھے گی لیکن اگر آپ کسی بچے کی ذمہ داری نہیں لینا چاہتے تو بھی آپ جتنی رقم دے سکتے ہیں آپ وہ ارسال کر دیں۔ آپ کی یہ رقم یتیم بچوں کے لیے قائم پول فنڈ کے اکائونٹ میں چلی جائے گی اور اس سے بے شمار بچے فائدہ اٹھائیں گے۔
رمضان ہمیں یہ سنہری موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی زکوٰۃ‘ صدقات اور خیرات کو محض ایک فرض سمجھ کر ادا نہ کریں بلکہ انہیں قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری بنائیں۔ کسی بچے کی تعلیم پر لگایا گیا پیسہ وہ فصل ہے جو نسلوں تک پھل دیتی ہے۔ممکن ہے آج کسی کلاس روم میں بیٹھا کوئی خاموش سا بچہ کل ڈاکٹر‘ انجینئر‘ استاد یا کم از کم ایک باشعور اور ذمہ دار شہری بن کر اس ملک کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے اور ممکن ہے تاریخ ایک دن امام بخاریؒ کی طرح اس کا نام بھی محفوظ کر لے۔بس شرط یہ ہے آج کوئی اس کا ہاتھ تھام لے لہٰذااس رمضان میں جب آپ اپنی زکوٰۃ کا حساب کریں تو ایک لمحے کے لیے رک کر تصور کریںکیاآپ کی زکوٰۃ کسی اسکول کی کسی میز تک پہنچ رہی ہے‘کیا یہ وہاں بیٹھے کسی بچے کے خوابوں کو زندگی بخش رہی ہے‘ وہ خواب جو اسے یتیم نہیں رہنے دیںگے ۔
اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کی زکوٰۃ کسی مستند‘منظم اور بااعتماد نظام کے ذریعے یتیم اور نادار بچوں کی تعلیم پر خرچ ہو توریڈفاؤنڈیشن پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے ۔ اس رمضان اپنی زکوٰۃ کو صرف ایک عدد نہ رہنے دیں۔یہ سوچیں شاید آپ جیسے کسی شخص نے 821ء میں آپ کی طرح بخارا کے ایک یتیم بچے کا ہاتھ پکڑا تھا اور وہ یتیم بچہ امام بخاریؒ بن گیا تھا‘ شاید آپ آج اس روایت کا ہاتھ پکڑ کر امام بخاریؒ جیسا کوئی اور جید شخص پیدا کر دیں۔
مزید معلومات‘ تعلیمی کفالت یا زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے بینک اوررابطہ نمبر کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔





















































