اسلام آباد (نیو زڈیسک) وزارتِ خزانہ نے گریڈ 1 سے گریڈ 15 تک کے سرکاری ملازمین کے حوالے سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے
جس میں بتایا گیا ہے کہ اسپیشل ڈسپنسیشن پالیسی 2023 کے تحت ہائر ٹائم اسکیل حاصل کرنے والے ملازمین تمام مالی فوائد کے مکمل طور پر مستحق ہوں گے۔فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری آفس میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ جن سول سرونٹس کو ہائر ٹائم اسکیل دیا جائے گا، ان کی تنخواہ اور الاؤنسز بنیادی پے اسکیل کے بجائے نئے منظور شدہ ہائر اسکیل کے مطابق ادا کیے جائیں گے۔ اس فیصلے سے سرکاری ملازمین کی آمدن میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔وزارتِ خزانہ نے وضاحت کی ہے کہ اس پالیسی کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے مؤثر ہوگا، جبکہ اس بارے میں تمام وفاقی وزارتوں اور متعلقہ ڈویژنز کو باضابطہ ہدایات بھی ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ عملدرآمد میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔حکام کے مطابق اس وضاحت کا مقصد ملازمین میں موجود ابہام کو ختم کرنا ہے اور اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ ہائر ٹائم اسکیل پر ترقی پانے والے ملازمین کو ان کے جائز مالی حقوق مکمل طور پر دیے جائیں۔ اس سے قبل بعض محکموں میں تنخواہوں اور الاؤنسز کے حوالے سے مختلف تشریحات سامنے آ رہی تھیں۔دوسری جانب سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے نچلے گریڈ کے ملازمین کو براہِ راست فائدہ ہوگا اور ان کی کارکردگی پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائر ٹائم اسکیل کے مطابق ادائیگیوں سے گریڈ 1 سے 15 تک کے ملازمین کی مجموعی مالی مراعات میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں گے۔



















































