منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

سولر پینل سےمتعلق اہم حکومتی فیصلہ

datetime 26  جنوری‬‮  2026 |
سولر پینلز کی قیمتیں
سولر پینلز کی قیمتیں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)محکمہ توانائی سندھ میں سولر پینلز کی تقسیم سے متعلق منصوبے میں تین ارب روپے سے زائد کی مبینہ بدعنوانی سامنے آ گئی ہے، جس کے بعد معاملہ احتسابی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سولر پینل منصوبے سے متعلق تمام ریکارڈ اور تفصیلات نیب کو فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق نیب نے کم آمدنی والے افراد کے لیے دو لاکھ سولر پینلز کی فراہمی کے منصوبے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ منصوبہ ورلڈ بینک کے فراہم کردہ 100 ملین ڈالر کے قرض کے تحت شروع کیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے جعلی دستاویزات کے ذریعے تقریباً 3.2 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں کیں۔ بتایا گیا ہے کہ ٹھیکیدار نے منصوبے میں شامل بعض اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے سولر یونٹس کی مکمل تعداد فراہم نہیں کی، تاہم کاغذات میں منصوبہ مکمل ظاہر کیا گیا۔

حکام کے مطابق تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…